رحم دلی
سبکتگین غزنی کا ایک معمولی سردار تھا لیکن بحد رحم دلخلق خدا کی خدمت کرنے والا اور خود تکلیف اٹھا کر بھی دوسروں کو آرام پہنچانے والا تھا۔ اسے شکار کا بڑا شوق تھا۔ جناب آپ سے ایک دن شکار کو نکلا تو دن بھر کوئی جانور نہ لگا۔ شام کو ناچار خالی ہاتھ لوٹ رہا تھا کہ اس نے دیکھا کے ایک ہرنی کا چھوٹا سا بچہ معصومیت سے گھاس پر چوکڑیاں پر رہا ہے سبکتگین نے اس کے پیچھے گھوڑا سرپٹ دوڑ آیا اور تھوڑی ہی دیر میں اسے جا لیا اسے پکڑ کر رسی سے باندھا اپنے گھوڑے پر رکھا اور کہا کہ چلو آج یہی غنیمت ہے اور گھر کی راہ لی۔ اب یہ تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ اسے اپنے پیچھے کسی جانور کی قدموں کی چاپ سنائی دیں اس نے مڑ کر دیکھا کہ ایک ہمیں اس کے پیچھے پیچھے آ رہی ہے سبق میں نے فرمایا کے ایس بچے کی ماں ہے جو اپنے بچے کی جدائی کی وجہ سے بے قرار ہے رحم دل تو تھا ماں کے دل کے اضطراب کو نہ دے سکا اس نے فورا رسیوں کو کھولا اور ہرن کے بچے کو آزاد کر دیا وہ دوڑ کر اپنی ماں سے لپٹ گیا اور ماں سے پیار اس کی بلائیں لینے لگی دونوں ماں بیٹے نے سبکتگین کی طرف احسان مندی سے دیکھتے ہوئے سر جھکالیا اور پھر چوکڑیاں بھرتے ہوئے جنگل سے دور غائب ہوگئے۔
شیر سبکتگین کو یہ منظر دیکھ کر اس سے کہیں زیادہ خوشی ہوئی۔ جو اسے ہرن کا بچہ شکار کرتے وقت ملی تھی۔ کہتے ہیں کہ اسی رات اسے خواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی آپ نے سبکتگین کی اس رحم دلی کو تحسین کی نظر سے دیکھا اور یہ بشارت دی کہ اللہ تعالی کو اس کا یہ حال اس قدر پسند آیا کے اس نے سبکتگین کی قسمت میں غزنی کی بادشاہت لکھ دیا ہے۔ خواب میں ملیں بشارت ہرف باہرف صحیح ثابت ہوئی۔ اور تھوڑے ہی عرصے بعد سبکتگین پوری غزنی کا بادشا ہ بن گیا۔ اب وہ اپنی رعایا پر پہلے سے بھی زیادہ مہربان تھا۔ اور اس نے بڑے عدل و انصاف کے ساتھ غزنی پر حکومت کی اور بہت جلد رعایا پر خوشحال ہوگی۔ اسی سبکتگین کا بیٹا سلطان محمود غزنوی تھا جو اشاعت اسلام کا اتنا شیدائی تھا کہ اس نے برصغیر پر سترہ حملے کیے تھے کیوں کہ حملے کے بعد ہندوستان کے راج اپنے کیے ہوئے وعدے سے پھر جاتے تھے ۔