Contents Show

Urdu Essays

اُردو مضامین

۔ میرا پسندیدہ مشغلہ۔،،

مشغلہ کیا ہے؟

ماشاءاللہ کا مطلب شغل یقاب ہے ایک ایسا کام جو کوئی آدمی اپنے فارغ وقت میں کرے اور اس سوائے واہ دل کی خوشی اور اطمینان کے کچھ حاصل نہ ہو بے شمار مشاغل ہیں جنہیں لوگ اپنے فارغ وقت نے اپناۓ ہوتے ہیں۔ ٹکٹ جمع کرنا سکے جمع کرنا گھونگے اور سیپیاں جمع کرنا تصویریں جمع کرنا  باغبانی اور قلمی دوستی وغیرہ۔

مشغلے کا فائدہ۔۔۔

ماشاءاللہ کوئی بھی کار چیز نہیں ہے یہ کسی شخص کے فارغ اور فرصت کے وقت کا بہترین مصرف ہے یاد میں اگر فرصت کے وقت دیکھا ہے تو اس سے طرح طرح کے غلط خیالات سوچتے ہیں۔ انگریزی میں کہتے ہیں کہ ایک بیکار ذہن شیطان کارگاہ ہوتا ہے یعنی اگر انسان بے کار ہے تو اسے بہت سے غلط اور برے خیالات آتے ہیں جینے پر جن پر اگر عمل کر بیٹھے تو بہت نقصان ہوتا ہے اس کا اپنا نقصان اور اس کے ہاتھوں دوسرے کا نقصان پاس کیا یہ بہتر نہیں کہ انسان اپنے آپ کو کس مفید کام میں مصروف رکھیں جس کی وجہ سے وہ نقصان اور تخریب کاری سے بھی بن سکتا ہے اور اس سے بہت سے فائدے بھی حاصل ہو سکتے ہے۔

میرا پسندیدہ مشغلہ۔،،

باغبانی میرا پسندیدہ مشغلہ ہے ہمارا امکان بالکل ہے ایسے ہم نے صرف چھ ماہ قبل تعمیر کرایا یہ کونسا جگہ پر واقع ہے ہم نے 10 مرلے میں مکان بنایا چار مرلے کا لان  یاں سبزہ زار ۔ہے۔ اور  6 مرلے شجرکاری کے لیے چھوڑ دیے ہیں۔ یہ گویا ہمارا باغیچہ ہے اس میں ہم نے عام مالٹا امرود جام اور لیچی کے پیڑ لگائے ہیں۔

باغیچہ کے چاروں طرف پھولوں کی کیاری ہے اس میں مستقل پھول دار اور پودوں مثلا گلاب چمبیلی موتیا مروا سدابہار اور دوسرے پودوں کے علاوہ موسمی پھولوں کے پودے بھی لگائے ہوتے ہیں۔

میں چھٹی کے بعد روزانہ اپنے باغیچے میں جاتا ہوں میرے پاس خطباء اور کسی ہے میں گھر پے کے ساتھ پودوں کی طلائی کرتا ہوں کیاری میں سے بیکار پتے اور گھاس پھوس اکھاڑ پھینکتا ہوں مٹی میں مناسب خادم لاتا ہوں اور پودوں کو مناسب مقدار میں پانی دیتا ہوں۔

 

جب بہار کا موسم تو تمام پودوں پر رنگ برنگے خوبصورت اور خوش نما پھول کھلتے ہیں میں اور میرے گھر والے باغیچے میں کرسیاں ڈال کر جاتے ہیں۔ طارق صاحب پودے اور خوبصورت پھولوں کو دیکھتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔ چھٹی کے دن میرے بعض دوست مجھ سے ملنے میرے گھر آ جاتے ہیں ان سب بیچ میں بیٹھ جاتے ہیں وہیں بیٹھ کر سکون کا کام کرتے ہیں اس کے بعد چائے پیتے اور خوش گپیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ مجھے دیکھ کر میرے ایک دو دوستوں نے بھی اپنے گھر میں پھولوں کی چھوٹی چھوٹی تیاریاں بنائی ہے اور ان میں مختلف قسم کے پھولوں کے پودے لگائے ہیں۔

۔ سیلاب کی تباہ کاریاں۔

تمہید۔؛

چلا پانی کے زبردست ہریلی کو کہتے ہیں جو عام طور پر شدید بارشوں یا برسات کے دنوں میں اٹھتا ہے۔ اس موقع پر زمین یا درج او کے اندر کتنے زیادہ پانی کی سمائی نہیں ہوسکتی۔ لہذا سیلاب کا یہ پانی دور کرتا ہوا چاروں طرف سے نکلتا ہے۔ اور آبادیوں اور فصلوں کو تباہ کر کے رکھ دیتا ہے اس کی وجہ سے سڑکیں بھی ٹوٹ جاتی ہے۔ اور پورا کاروبار حیات درہم برہم ہو جاتا ہے۔

ایک سیلاب کا منظر۔۔۔

شاعروں اور ادیبوں کے بقول دریائے راوی عموما سارا سال بہتا ہے۔ لیکن یہ جب دار ہوتا ہے تو بہت تباہ کن ہو جاتا ہے۔ ایسا عموما دو موقع پر ہوتا ہے۔ او لے کے بارشں سے بہت زیادہ ہو۔ دوبارۃ دانستہ طور پر اپنا کوئی بند کر اس دریا میں چھوڑ دیتا جس سے زیادہ دریا تباہ ہو جاتا ہے۔ دریائے راوی میں چند سال قبل ایک خوفناک سیلاب آیا اس سال بارشیں معمول سے زیادہ ہوئی تھی۔ اس لیے راوی میں اونچے درجے کا سیلاب آگیا۔

یہ اگست کا مہینہ تھا ایک صوبہ سائیں سائیں کی زبردست آواز آئی یہ دراصل پانی کے زور سے بہنیں کی آواز دی شہرہ کے لوگ پریشان ہوگئے انہوں نے آبادی سے نکلنا شروع کر دیا وہ چلا رہے تھے لوگوں بھاگو سے لاپتہ تھے جیسے بڑا چلا آ رہا ہے۔ نکل جاؤ سامان کی پرواہ نہ کرو ورنہ مر جاؤ گے۔

افراتفری۔:

لوگ انتہائی پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر بھاگنے لگے عورتوں اور بچوں کی پریشانی دیدنی تھی۔ موت کا خوف سب سے بڑا خوف ہوتا ہے عورتیں اور بچے رو رہے تھے کچھ لوگ ان کو سمجھایا کہ رونا دھونا چھوڑ دو اور عقل سے کام لو۔ آخر سب لوگ ایک ٹیلے کی طرف بھاگنے لگے کی لوگ بھاگتے ہوئے گر گئے۔ کی بچے کچھ لے گئے ہار طرف نفسہ نفسی کا عالم تھا آخر لوگ بلند جگہ پر پہنچ گئے۔ لیکن اس اثنا میں پانی کا زبردست ریلا بستی کے اندر داخل ہو چکا تھا۔ پانی انفعنا چاروں طرف پھیل گیا اور چشم زون میں ہر طرف پانی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔۔

تباہی۔:

یہ ایک زبردست سیلاب تھا جس نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا دیہاتی علاقوں میں زیادہ نقصان ہوا فصل تباہ ہو گئی۔ کچے مکان زمین بوس ہو گئی سینکڑوں مویشی مر گیا سینکڑوں پانی کے ریلے میں بہہ گئے۔ بہت سی انسانی جانیں بھی ضائع ہوئی جو چند گھنٹوں پہلے اپنے گھروں میں آرام اور اطمینان کے ساتھ رہ رہے تھے۔ اب تباہ حال ہے خان ما برباد ہوگئے۔

امداداورتعاؤن۔:

لوگوں کو سلاب کی شدید تباہکاری سے بچانے کے لیے فوجی جوانوں نے بہترین خدمات انجام دیں۔ انہوں نے ڈوبتے ہوئے اور پانی کے اندر کھڑے ہو کو نکالا۔ ان سے وہ لوگوں کو کپڑے اور خوراک پہنچائی فوج کے علاوہ قومی رضاکار اور درد دل رکھنے والے شہری بھی سیلاب زدہ مقامات پر پہنچ گئے۔ انہوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر سیلاب زدگان کی مدد کی اور ہر طرف سے تحفظ اور آرام بچایا۔

المیہ۔:

قیامت صغریٰ کے اس موقع پر چند سیاہ فطرت لوگوں نے درندگی کا مظاہرہ کیا انہوں نے بیک خواتین سے زیادہ چھین لیے۔ ان کے قیمتی سامان سے نہیں محروم کر دیا کچھ سنگدل لوگ روٹیاں پکا کر ایسی جگہوں پر لے گئے اور  سلاب زدگان کے ہاتھ روٹی انتہائی مہنگے داموں فروخت کی تین روپے کی روٹی انہوں نے دس دس روپے میں فروخت کی۔

سیلاب زدگان کی امداد اور تعمیر نو۔؛

آخر چند دنوں کے بعد ضلع بہتر گیا لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس ہونے لگے حکومت اور فلاحی اداروں نے دل کھول کر ان کی تعمیر نو میں حصہ لیا اور اس طرح تقریبا دو ماہ کے اندر زندگی معمول پر آگئی۔

 

۔ سگریٹ نوشی کے نقصانات۔

تمباکو نوشی۔ دماغ روشن و دماغ کو پینے کو کہتے ہیں تم خوشی کی بہت سی صورتیں ہمارے معاشرے میں موجود ہے۔ مسلہ کا سردار ڈیری پائپ اور سگریٹ۔

تمباکونوشی کا آغاز۔۔۔

تمام کون اور خطرناک نعشوں کی طرف پہلا قدم ہے یہ بھی ایک نشہ ہے لیکن بہت ہلکا نشہ ہے۔ تمباکو نوشی کے عادی افراد بعد میں کسر افیون چرس گنجے اور ہیروئن کا شکار ہو جاتے ہیں جو برے نہیں ہیں۔

سگریٹ نوشی۔۔

شروع شروع میں امریکہ کے لوگ بانس کی نالیوں میں بھر کر تم کو پیا کرتے تھے بعد میں انسان جو سہولت پسند کو پینے کے لئے آسان طریقہ دریافت کر لئے۔ موجودہ دور ایک طریقہ کاغذ میں دھماکوں کو بھر کر پینے کا ہے جیسے سگریٹ کہتے ہیں۔ اس کا سائیڈ ایچ کے قریب ہوتا ہے بعض گریٹ اس سے بھی لمبے ہوتے ہیں۔ حقہ پینے کے لئے مشقت کرنی پڑتی ہے تتلیاں مٹی کے ہوکے کے ساتھ ساتھ نیچے پانی کی بھی ضرورت ہوتی ہے پھر قلم کی ضرورت پڑتی ہے۔ جس میں دھماکوں کو رکھتے ہیں تو ماں کے لیے ابلے کی آگ بہت ضروری ہے ورنہ تم کو کو سلگ نہیں سکتا۔

اگر حقیقت میں پانی نہ ہو تو بھی صحیح طریقے سے موقع نہیں دیا جاسکتا سگریٹ ان سب رکاوٹوں اور مشکلوں سے آزاد ہے۔ سگریٹ کو ماچس کی سب ایک ٹیلی درکار ہوتی ہے تیری جلائی اور سگریٹ لگا لیا۔

سگریٹ نوشی کی وبا۔:

سگریٹ نوشی ایک وبا بن گئی ہے وہ تو صرف چند لوگ اپنے گھروں یا دکانوں پر پیتے ہیں  سگریٹ ہارجگہ پر پیا جاتا ہے۔ بوڑھے جوان بچے غرض ہر عمر کے لوگ سگریٹ پیتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسکولوں کالجوں یونیورسٹیوں اور دوسرے تعلیمی اداروں میں سگریٹ نوشی عام ہے خطہ کے پار کب سیریل گاڑیاں اور اسپتال بھی اس بابا میں محفوظ نہیں ہین۔ بعض لوگ شروع میں فیشن کے طور پر سگریٹ پیتے ہیں بعد میں ان کی عادت بن جاتی ہے جو ساری عمر نہیں چھوٹتی۔

بےکار اور بے فائدہ کام۔۔۔

سگریٹ نوشی ایک بے کار اور بے فائدہ کام ہے اس کا فائدہ کوئی نہیں البتہ نقصان بے شمار ایسے صحت اور دولت دونوں ہار جاتی ہے۔

صحت کی خرابی۔:

سگریٹ نوشی کا سب سے زیادہ نقصان یہ ہے کہ اس سے صحت خراب ہوتی ہے سگریٹ پینے والے کے منہ سے بدبو آتی ہے اس سے بہت سی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں دل اور پھیپھڑوں کی بیماریاں سگریٹ نوشی سے پیدا ہوتی ہیں۔ دان بدر اور پیلے ہوجاتے ہیں اس سے خون کی کمی کینسر اور دمہ کی بیماری پیدا ہوتی ہے یہ سب بیماریاں تقریبا لا علاج ہیں۔

دولت کی بربادی۔۔۔۔۔

سگریٹ نوشی ارسال اربوں روپے خرچ کیا جاتا ہے اور روپے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اسی صرف پھینک دیا جاتا ہے اور بیماری مولی جاتی ہیں۔

سگریٹ نوشی کی روک تھام۔۔۔۔

سب سے پہلے یہ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ تمام قوموں کاشت کو ممنوع قرار دے تم خود سے بننے والی مصنوعات پر مکمل پابندی لگائے اور ان چیزوں کے استعمال پر سخت سزائیں مقرر کرے ہمیں بھی اپنے مواظبہ کرنا چاہیے اور پورے کوشش اور خلوص کے ساتھ سگریٹ نوشی سے بچنا چاہیے۔

 

۔ ایک تاریخی مقام کی سیر۔

اہمیت۔:

تاریخی مقامات کی سیر سے بہت کچھ حاصل ہوتا ہے مرد تاریخ کی معلومات میں پیش بہا اضافہ ہوتا ہے۔ یہ مارتے دیکھ کر ہمیں ان کے بنانے والوں کی مہارت اور عظمت کا پتہ چلتا ہے۔ یہ ہماری ہمارا شاندار ماضی یاد دلاتی ہے ہم جو کچھ تاریخ میں پڑھتے ہیں جب اسے آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو ہمارے حافظے میں محفوظ اور نفس الحجر ہو جاتا ہے۔

سیر کا پروگرام۔؛

ہم چند دوستوں نے مل کر پروگرام بنایا کہ لاہور میں مغلیہ دور کے بعض عمارات کی سیر کی جائے۔  ہم نے اس کے لئے جمع کا دن مقرر کیا ہم اپنے استاد جناب محمد طفیل کے ہمراہ پانچ بجے ویگن میں بیٹھ کر لاہور کے لیے روانہ ہوگئے۔ ہم نے کھانے پینے کی چیزیں اور پھول بھی ساتھ لے گئے تھے ایک گھنٹے میں ہم شاہدرہ موڑ گئے۔ ہم وہاں اتر گئے اور پیدل چار مقبرہ جہانگیر کے صدر دروازے پر پہنچے۔ وہاں سے اندر داخل ہونے کا ٹکٹ خریدا اور آگے مقبرے کے چند عرب امارات اور دلکش منظر ہماری آنکھوں کے سامنے تھے۔ مختلف  رویوں پر سے گزرتے ہم مقبرے کی عمارت تک پہنچ گئے۔ مرزا کے طلسماتی ماحول نے ہم پر ہیبت طاری کردی۔ ہم چند لمحوں کے لیے اپنے حسین ماضی کی خوشگوار یادوں میں کھو کر رہ گئے۔

مغلیہ فن تعمیر کا بہترین نمونہ۔:

ملکہ نورجہاں اور شہنشاہ جہاں کے بنائے ہوئے اس مقبرے کی شان حسین خوبصورت اور عظمت و جلال کو الفاظ پیش کرنا ممکن نہیں۔ سنگ مرمر کا بنا ہوا ہسپتالوں مزار سنگ سرخ کے بنے ہوئے ایک فٹ اونچے مربع چبوترے پر واقع ہے۔ جس پر قیمتی پتھروں سے بنے ہوئے مختلف قسم کے بیل بوٹے بنے ہوئے ہیں۔ قبر کے تعویذ کے دائیں اور بائیں جانب اللہ تعالی کے 99 نام کندہ ہیں۔ مقبرے کے اندر کا فرق نہایت ملائم اور چکنا ہے مغل فن تعمیر کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔

عظیم الشان مینار۔۔:

اس عظیم الشان مقبرہ کے اوپر جانے کے لیے چاروں طرف سرخ پتھر کے زیب بنے ہوئے ہیں چاروں کونوں پر چار برج ہیں اور ہر برج پر   ایک مینار ہے۔

یہ عجیب بات ہے کہ بچا ہیں مسجد کے مینار پر کھڑے ہو کر دیکھیں تو جہانگیر کے مقبرے کے تین مینار ہی دکھائی دیتے ہیں۔ چوتھا مینار دکھائی نہیں دیتا۔ اور مقبرے کی سیمینار سے بچائیں مسجد کے میناروں کا نظارہ کریں تو بھی مسجد کی صفتیں منارہی دکھائی دیتے ہیں جو نظر نہیں آتا۔

مقبرہ آصف جاہ۔:

آصف جا ملکہ نور جہاں کا بھائی تھا اس کا مقبرہ جہانگیر کے مقبرے کے قریب ہی ہے۔ آصف جا کی بیٹی ممتاز محل شاہ جہاں کی تھی بیٹی تھی اسے جا کا مقبرہ شاہ جہاں نے بنوایا تھا۔ یہ مقبرہ بھی بہت عالی شان تھا اس کے چاروں طرف والے تھے اب یہ مقبرہ خستہ حالی کا شکار ہوگیا اور اسے دیکھ کر بے ساختہ غالب کا یہ مصرع لبوں پہ آ جاتا ہے۔ دیکھے مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو۔

ملکہ نورجہاں کا مزار۔۔۔

اپنا مقبرہ ملکہ نورجہاں نے خود بنوایا تھا یہ نہایت سادہ ہے اور قبر کی لو پر ملکہ کا اپنا یہ فارسی کا شہر کندہ ہے۔

بر مزار ما غریباں نے چراغے نے گلے

نے پر پروانہ سوزد نے صدائے بلبلے

اس مزار کا ماحول بہت اداس ہے یہ ملک تھی جہانگیر کے دل پر راج کرتی ہوں جس کے بارے میں علامہ شبلی نعمانی نے کہا تھا۔

اس کی پیشانی نازک پہ جو پڑتی تھی گرہ

جا کے بن جاتی تھی اور راہ حکومت پر شکن۔

لیکن آج اس کا مقبرہ اداسی اور عبرت کی مکمل تصویر صرف قبر سنگ مرمر کی بنی ہوئی ہے باقی سارے مقبرے کی عمارت بہت سادہ ہے۔

ہم نے مناسب سمجھا کہ آج صرف اسی قدر کافی ہے بھوک لگ گئی تھی ہم سب بیٹھ گئے اور کھانا کھایا۔ اس کے بعد پھل نوش جان کیے اور ایک ٹانگے پر بیٹھ کر بچائیں مسجد لاہور پہنچ گئے تاکہ جمعہ کی نماز ادا کرسکیں

 

۔ ٹیلی ویژن کے فوائد اور نقصانات۔

تعارف۔

ٹیلی ویژن جیسے عام طور پر ٹی وی کہتے ہیں۔  انگریزی کے دو الفاظ ٹیلی اور ویژن سے مل کر بنا ہے۔ ٹیلی کا معنی ہے دور کا اور ویژن کا معنی ہے نظارا یعنی دور کا نظارہ یہ موجود دور کی ایک عظیم ایجاد ہے جسے سائنس کا حیرت انگیز معجزہ کہا جاتا ہے اس کے موجد کا نام لوہے کی ہیڈ جو سکاٹ لینڈ کا رہنے والا تھا۔

ٹیلی ویژن کیا ہے۔

یہ ایک جام جہاں نما ہے اس کے ذریعہ ہم گھر بیٹھے نہ صرف دنیا بھر کی خبریں سن سکتے ہیں بلکہ اپنے

آس پاس ہونے والے واقعات کو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے  ہیں

ٹیلی ویژن کی یہی وہ خصوصیت ہے جس کی وجہ سے ایسے ریڈیو پر برتری حاصل ہے کسی جگہ کوئی علمی ادا بھی تقریب ہو رہی ہو کوئی مذہبی کانفرنس ہو کوئی مشاعرہ ہو رہا ہوں یا کھیلوں کا مقابلہ ہو کوئی  میلہ ہو یا کوئی نمائش ٹی وی کا بٹن دبائے اور اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ لیجئے

ٹی وی ہماری ضرورت بن گیا ہے۔،،

ٹی وی اب لوگوں کی ضروریات زندگی میں داخل ہوگیا ہے۔ آپ ملک کے اندر کہیں بھی چلے جائیں جہاں بجلی ہوگی آپ کو ٹی وی ضرور دکھائی دے گا  ۔ شام ہوتے ہی چھوٹے بڑے ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتے اور اس کے رنگا رنگ میوزیکل اور تفریحی پروگراموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو لوگ ٹی وی دیکھتے ہیں ان کی معلومات دوسرے لوگوں سے زیادہ ہوتی ہے۔

سب سے موثر  ذریعہ ابلاغ۔،،،

ٹی وی دور حاضر کا سب سے زیادہ موثر ذریعہ ابلاغ ہے۔ اس نے دنیا بھر کے لوگوں کی زندگی میں انقلاب برپا کر دیا اس کے دلچسپ پروگراموں سے پڑھے لکھے اور ان پڑھ لوگ یکساں طور پر فائدہ حاصل کرتے ہیں یہ ایک بہترین ذریعہ تعلیم ہے لاہور ٹی وی سے بہت اچھے پروگرام نشر ہوتے ہیں۔

ایک پروگرام عربی زبان سکھانے کا ہے دوسرا پروگرام تاریخ اسلام کا ایک پروگرام اسلامی تعلیمات کا ان پروگراموں کے ذریعے ہم عربی زبان اور اپنے پیارے دین اسلام کے بارے میں نہایت گراں قدر معلومات حاصل ہوتی ہے۔

بہترین ذریعہ تعلیم۔،،

ٹی وی کے ذریعے مختلف بیماریوں کے اسباب اور ان کا علاج بتاتے جاتے ہیں۔ قانونی مشورے دیے جاتے ہیں سائنس کی جدید ایجادات ٹیکنالوجی صنعت رفتہ دے سکے لوگوں کی معاشرتی اور تمدنی حالات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

ٹیلی ویژن کے نقصانات۔،،

یہاں ہمارے نوجوان ٹی وی کے اصطلاحی اور معلومات پروگراموں سے فیض یاب ہو رہے ہیں وہی قتل مرڈر تشدد اور بے حیائی کا سبب بھی حاصل کر رہے ہیں ہمارے ملک میں تعلیم بہت کم ہے نتیجہ یہ ہے کہ لوگ انھیں ٹی وی کے پیش کردہ باز پروگرام اور ڈراموں کا منفی اثر قبول کر رہا ہے۔ چوری ڈکیتی اغوا رشوت اور بے راہ روی عام ہوگئی ہے۔ نوجوان 70 بے مہار ہو گئے وہ والدین کی نصیحت اور مفید ہدایتوں کو دیوانے کی بڑ خیال کرتے ہیں اور اپنی مرضی سے زندگی کی راہیں متعین کرتے ہیں۔

یہ ایک نہایت خطرناک صورتحال اس پر ارباب اقتدار کو فوری توجہ دینی چاہیے اور اس کا سدباب کرنا چاہیے بصورت دیگر ہم ٹی وی سے اتنا کچھ حاصل نہیں ہو گا جتنا کہ ہم گنوا بیٹھیں گے۔ یہ مقصد اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جب ٹی وی کے پردے سے بے حیائی کا مناظر اور مردار کے واقعات بطریق احسن ختم کر ورنہ ہمارا قومی درخت پوری طرح ختم ہو جائے گا۔

، میرا پسندیدہ کھیل،،

تعارف،،

ویسے تو میں ہر کھیل کو پسند کرتا ہوں لیکن حقیقی میرا پسندیدہ ترین کھیل یہ سب سے پہلے ہندوستان میں شروع ہوا تھا اس وقت یہ ساری دنیا میں مقبول ہوگیا ہے ہماری ہاکی کی ٹیم نئی دفع پاکستان کا نام روشن کیا ہے اس لئے پاکستان میں یہ کھیل بہت مقبول ہے۔

کھلاڑی کی تعداد،،

اس کی ٹیموں میں دونوں طرف گیارہ گیارہ کھلاڑی ہوتے دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کی تعداد بائیس ہوتی ہے ہر کھلاڑی کے پاس لکڑی کی  ایک سٹک ہوتی ہے۔

ہاکی گراؤنڈ،،

حاجی کے لیے بالکل ہموار میدان کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ   گیندکے دوڑنے میں رکاوٹ نہ ہو۔ اس کے لئے میدان 300 فٹ لمبا اور 120 فٹ چوڑا ہوتا ہے دونوں طرف آمنے سامنے دو گول ہوتے ہیں جن کے پیچھے جال ہوتا ہے۔ بولو کے آگے ایک نیند ایرانی ڈی ہوتی ہے جو کھلاڑی اس گول میں ہوتا ہے گول کی پر کہتے ہیں۔ اس کے ذمہ گول کی حفاظت ہوتی ہے وہ ہونے سے بچاتا ہے اسے اجازت ہوتی ہے کہ گیند کو روکنے میں اپنے ہاتھ پاؤں کا استعمال کر سکتا ہے۔ ٹیم کے کھلاڑیوں نے کل بیک کہا جاتا ہے ڈی کے باہر گول کیپر کی کو سپورٹ کرتے ہیں فل بیک کھلاڑیوں سے آگے تین کھلاڑی اور ہوتے ہیں جن کو ہاف میں کہا جاتا ہے اور جو گن کے آگے پہنچانتے ہیں ان کو سینئر فارورڈ کہتے ہیں یہ تعداد میں پانچ ہوتے ہیں یوں تو سب کھلاڑی اپنی اپنی جگہ پر اہم ڈیوٹی انجام دیتے ہیں لیکن سینئر لائن والے کھلاڑی گیند کو آگے لے جاتے ہیں۔ اور گول کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ریفری۔؛

میچ کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک دن ہوتا ہے جیسے ریفری کہتے ہیں کی نگرانی کرتا ہے اور ان سے ہاکی کی قواعد و ضوابط کے مطابق عمل بھی کرواتا ہے۔ ریفری کو کھیل شروع اور بند کروانے کے عتراض حاصل ہوتے ہیں۔ اگر کوئی کھلاڑی غلطی کرے تو اس کے لئے بھی فیصلہ کرتا ہے۔ ۔ کھیل کی ہار جیت کا فیصلہ بھی وہی کرتا ہے اس کے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل نہیں کی جاسکتی۔ مصنف مزاج کبھی غلط فیصلہ نہیں کرتے اگر وہ جانبداری سے کام لیتا ہے۔ تو اس کی شہرت کو نقصان پہنچتا ہے یہ ویسے بھی سپورٹ میں شب کے ماتھے پر بدنما داغ ہوتا ہے اور اکثر غیر جوابداری ہی ہوتے ہیں۔

کھیل کا آغاز۔:

ہاں کیس طرح لکھی جاتی ہے کہ دونوں فریقوں کے فارورڈ ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہو کر پہلے اپنی اسٹیٹ زمین پر ایک دوسرے کو ٹکر مارتے ہیں۔ اس طرح وہ دو تین دفعہ کرتے ہیں کھیل کی زبان میں اسے بجلی کہا جاتا ہے اور اس سے کھیل کا آغاز ہوتا ہے۔

قواعد و ضوابط ۔۔۔

کھیل کے قواعد و ضوابط اس طرح سے ہیں کہ اگر کھیل کے دوران سٹک کندھے سے اوپر اٹھ جائے تو فارغ ہو جاتا ہے جس کے بدلے مخالفین کو ایک ہے مل جاتی ہے۔ گول کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ڈی کی حدود کے اندر سے ہٹ لگائی جائے اور یہ کہ اگر گول میں داخل ہو جائے گا داخل ہو کر گزر جائے تو گول ہو جاتا ہے۔ اگر ایک ڈی کے باہر سے لگائی جائے تو آؤٹ ہو جاتا ہے مگر گول نہیں ہوتا جائے گی ن گور کے اندر ہی اندر داخل ہو جائے۔

ہاں کی بورڈ کے ممبر اگر تعصب اور جانبداری سے بالاتر ہو کر خلوص سے کام کریں تو ملک ٹیم دنیا کی بہترین ٹیم ہوگی۔

ہاکی کے فوائد۔

دوسروں کی طرح آگے کھیلنے کے فائدے بہت ہی کھیلنے کے دوران جسم کی بہت بڑی ہوتی ہے کھیل کے دوران کھلاڑی پورے زور سے دوڑتے ہیں۔ ان کے جسم سے پسینے خراب ہو جاتا ہے اس سے جسم مضبوط اور سمارٹ ہوتا ہے اس کھیل میں خاص طور پر ٹانگوں کی ورزش ہوتی ہے۔ نظم و ضبط قائم رکھنے کی عادت پڑتی ہے اتحاد و اتفاق کا جذبہ پیدا ہوتا ہے انسان اطاعت امیر کا عادی ہو جاتا ہے۔ بین الاقوامی طور پر ملک وقوم کی شہرت کا باعث بھی بنتا ہے۔ دوسرے ملکوں کیساتھ ثقافت سرکار پیدا ہوتے ہیں سپورٹ میں شیطانی کھیل کا صحیح جذبہ پیدا ہوتا ہے جو عملی زندگی میں ایک اچھے شہری کی صلاحیتوں میں ڈال جاتا ہے۔

 

تندرستی ہزار نعمت ہے

تعارف و معفوم۔:

تندرستی بہت بڑی نعمت ہے غریبی مفلسی اور ناداری میں آدمی گزارہ کر لیتا ہے لیکن صحت کی خرابی انسان کو بے بس کر دیتی ہے۔

فلاح الدین و دنیا منحصر ہے تندرستی پر

غرض سو نعمتوں کی ایک نعمت تندرستی ہے

صحت انعام خداوندی۔؛

صحت  اور تندرستی انعام خداوندی ہے۔ صحت مند آدمی اس نعمت سے بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے۔ وہ غربت اور افلاس کا مقابلہ کرتا ہے۔ تندرستی بہت بڑی دولت ہے۔ صحت مند آدمی محنت اور مزدوری سے اپنا گزر اوقات کا سکتا ہے۔ تندرست آدمی ہر طرح کی محنت کر سکتا ہے۔ اللہ تعالی اسے تنگ و دستی سے کشادگی دیتا ہے۔ صحت دولت سے نہیں خریدی جاسکتی دولت مند آدمی اگر تندرست نہیں تو اس کی دولت اور کشادگی بےکا رہے۔

بیمار آدمی کا دکھ۔:

بیمار آدمی بہت دکھی ہوتا ہے اور ہار وقت بے زار اور پریشان رہتا ہے۔ اسے دنیا کی کوئی چیز اچھی نہیں لگتی اس کی طبیعت متلون اور چڑھی ہو جاتی ہے۔ عمدہ چیزیں اس کے لئے بے مزہ ہو جاتی ہیں۔

تندرستی کا کائم رکھنا۔۔

تندرستی کا  قائم رکھنے کے لیے اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلنا چاہیے۔ صحت کے لئے سب سے بڑی ضروری چیز مناسب غذا ہے اکثر لوگ بے تحاشہ کھاتے ہیں۔ وہ اتنے موٹے ہو جاتے ہیں کہ اپنا بوجھ اٹھانے سے قاصر رہتے ہیں۔ ہدایت دال سے بڑھ کر کھانا صحت برباد کرنے کا باعث بنتا ہے ارشاد خداوندی ہے۔ کھاؤ پیو اور اسراف نہ کرو۔ علاوہ ازیں غذا کے بارے میں احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ بیماری ناقص غذا کھانے سے پیدا ہوتی ہے سادہ اور خالص ہونی چاہیے اچھی صحت کا راز ہے کہ بھوک لگے تو کھا ؤ اور ابھی کچھ بھوک باقی ہو تو کھانے سے ہاتھ کھینچ لو۔

تندرستی اور صفائی کا تعلق۔۔۔

اچھی صحت کے لئے صاف ستھرا رہنا ضروری ہے ہمیں اپنے جسم کی صفائی اور لباس کی پاکیزگی کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ماحول کو صاف ستھرا رکھنا بھی لازم ہے گھر گلی محلے اور اپنے شہر کی صفائی بہت ضروری ہے صحت اور صفائی کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم روزانہ اور دانت صاف رکھیں صاف ستھرا لباس پہنتے ہیں اور گرد و غبار سے بچیں۔

صحت کے لیے ورزش بہت ضروری ہے صبح کی سیر کرا کی باغبانی اور سواری صحت کے لیے ضروری ہے۔ یہ سب مشاغل صبح جلدی بیدار ہونے پر منحصر ہیں۔ صبح سویرے اٹھ کر وضو کر کے نماز پڑھی جائے اور پھر سیر کو نکل جانا چاہیے۔ کوئی اور مناسب ورزش کرلی جائے تو وہ بھی بہتر ہے ورنہ کے چاک و چوبند رکھتی ہے۔

تندرستی کا زریں اصول۔۔۔

اچھی صحت اور تندرستی کے لیے رات کو جلدی سونا اور صبح جلدی اٹھنا ضروری ہے۔

محنت کرنا۔،،

اگر ہم اپنے جسم کے اعضاء کو نااہل آئیں گے تو یہ کمزور ہو جائیں گے پھر یہ چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہو جائیں گے۔ اس لیے انسان کو محنت کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے دنیا میں جتنے بھی عظیم آدمی ہوتے ہیں ان سب نے دن رات محنت مشقت کی ہے۔ میں نے اس سے انسانی جسم اعتدال پر رہتا ہے کردار کی تشکیل ہوتی ہے اور حسن سیرت پیدا ہوتا ہے۔ دنیا میں کامیاب زندگی بسر کرنے کے لئے انسان کا صحت مند ہونا ضروری ہے۔ کی ذہین طالبہ کمزور صحت کے بعد محنت نہیں کر سکتے اور تعلیم میں اپنے ہم جماعتوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ان کی صحت مند ساتھی معمولی ذہانت کے باوجود محنت کرکے ان سے آگے نکل جاتے ہیں۔ کمزور صحت کا آدمی نہ اپنے لیے کچھ کر سکتا ہے اور نہ دوسروں کے لئے کام آ سکتا ہے صحت کے بغیر انسان کوئی کام نہیں کر سکتا۔

تندرستی کا استعمال۔:

تندرستی اللہ تعالی کی نعمت ہے جو اس لئے ملتی ہے کہ ہم اسے نیک کاموں میں خرچ کریں رزق حلال کمانے میں صرف کریں ملک و قوم کی فلاح و بہبود کے لئے کوشش کریں اور اپنی قابلیت سنوارنے کی فکر کریں۔ غلط اور گناہ کے کام میں وقت صرف کرنے سے ہمیں سزا ملتی ہے ہم دنیا اور آخرت دونوں میں رو سیا ہو جاتے ہیں۔

اسلام میں تندرستی کی اہمیت۔ ۔۔

اسلام اپنی شعر کی طرف توجہ دینے پر بہت زور دیتا ہے ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ تمہارے جسم کا تم پر حق ہے۔ مسواک کرنے والوں کو کاٹنے اور جسم کی صفائی پر زور دیا گیا ہے پاکیزگی نصف ایمان ہے اسلام یہ چاہتا ہے کہ مسلمان اپنی صحت پر توجہ دیں تاکہ وہ اپنے فرائض احسن طریقے سے سر انجام دے سکیں۔ ایک تندرست آدمی اپنے لئے اور اپنے اہل و عیال کے لئے رزق حلال کی تگ و دو کر سکتا ہے ایک تندرست آدمی ہیں میدان جنگ میں باطل سے ٹکر لے سکتا ہے۔ لہذا اسلام نے تندرستی قائم کرنے کے لیے اصول مقرر فرمائے ہیں اگر ہم ان اصولوں پر کاربند ہیں تو تندرست رہ سکتے ہیں۔ یہ ایسے اصول ہیں جن پر کچھ خرچ نہیں آتا صرف احتیاط کی ضرورت ہے اسلام دین فطرت ہے اور اپنے ماننے والوں کے لئے آسانی پیدا کرتا ہے۔

 

علم کے فائدے۔

علم کے معنی۔۔

الم کے معنی ہیں جاننا ،آگاہی ، واقفیت،

علم کی خصوصیات۔۔

علم ہی کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں پر فضیلت دی گئی ہے کس شاعر نے خوب کہا ہے۔

کیوں فرشتوں پر فضیلت دی تھی حضرت آدم علیہ السلام کو ایل مہینے کر دیا تھا آپ کا پہلا گراں

علم کی فضیلت اللہ تعالی کی نظر میں۔۔۔

علم کی بدولت اللہ تعالی نے انسان کو خلافت کے منصب پر فائز کیا ہے۔  علم ہی سے انسان اپنے مقام پر پہنچا ہے آج انسان جو ستاروں پر کمندیں ڈال رہا ہے یہ علم ہی کی وجہ سے ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے علم کی اہمیت اور فضیلت کا بے شمار مقامات پر ذکر کیا ہے پہلی وحی کا آغاز ہی اقراء سے ہوا۔ ارشاد بانی،، اپنے پروردگار کے نام سے پڑھ جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ پڑھ اور تیرا پروردگار ایسا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔ انسان کو وہ علم سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا ایک دوسرے مقام پر فرمایا اللہ تم میں سے ایمان والوں اور علم والوں کے درجات بلند فرماتا ہے۔،،

ویسے تو سب انسان اللہ تعالی کے بندے ہیں۔ مگر جو لوگ زیور تعلیم سے آراستہ ہوتے ہیں وہ خدا کے زیادہ محبوب ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی فرماتا ہے ترجمہ۔،، کہہ دیجیے کیا علم اور جاھل برابر ہو سکتے ہیں۔،،

علم کی فضیلت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں۔،،

رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علم کی اہمیت اور فضیلت پر بہت زور دیا ہے۔ ارشاد فرمایا،،

علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔

مہددسے لحد تک علم حاصل کرو۔

علم نبیوں کے وراثت ہے۔

علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے۔

ایک عالم شخص شیطان پر ہزار عابد سے سخت تر ہے اور عالم کو عابد پر ایسی فضیلت ہے جیسے چودھویں رات کے چاند کو تمام تاروں پر۔

عالم کی فضیلت عابد پر ویسی ہی ہے جیسے میری فضیلت امت پر۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ تعالی سے اپنے علم میں اضافے کی دعا کرتے رہتے،، اے رب میرے علم میں اضافہ فرما۔،،

حضرت علی کا فرمان۔۔،،

جس نے مجھے ایک حرف بھی تعلیم دی اس نے مجھے اپنا غلام بنا دیا۔

علم کی فضیلت بزرگان دین کی نظر میں۔،،

تمام بزرگوں نے علم حاصل کرنے پر زور دیا ہے ائمہ اربعہ امام غزالی، بازدید بسطامی،  حضرت علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ اور بے شمار دوسرے بزرگان دین نے علم حاصل کرنے پر زور دیا ہے۔

امام شافعی کا ارشاد،، طالب،علم نفلوں سے افضل ہے۔،،

لارڈ میکالے کا قول۔،،

اگر روئے زمین کی بادشاہت مجھے دیدی جائے اور میرا کتب خانہ مجھ سے لے لیا جائے تو میں ہرگزر  ضامند نہیں ہو سکوں گا۔،،

شرف آدمیت۔،،

اسلام مذہب علم ہے۔ اس کے نزدیک انسان کو دیگر مخلوقات پر شرف علم ہی سے حاصل ہے اور علم ہی کی بنا پر وہ ترقی کی راہوں پر گامزن ہو گا۔ اس لیے وہ اپنے ماننے والوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ علم کی تلاش میں نکلوں اور حکمت کی موتی جہاں کہیں ملین حاصل کرو۔

اللہ تعالی کی نوازش۔،،

یہ ایک حقیقت ہے کہ خداوندکریم نے ہمیشہ حکومت اور سلطنت سے ایسی قوم کو نوازا ہے جو علم و عمل سے دوسری اقوام کے مقابلے میں بہتر تھی۔ اسی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے ملائکہ پر فضیلت لے  گئے۔

تاریخی شہادت۔،،

جب ہم تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جب اہل یونان علمی میدان میں فائق

تھے تو سکندر اعظم نے مشرق و مغرب میں اپنی عظمت کا جھنڈا گاڑا اور دنیا کی کوئی چیز اس کا مقابلہ نہ کر سکی۔ اسی طرح اہل اسلام نے جب اللہ کے فرمان پر عمل پیرا ہو عمل پیرا ہو کر علمی میدان میں کارہائے نمایاں انجام دیے  اور قرآن کریم اور احادیث رسول صلی اللہ کو سمجھنے کے لئے درسگاہں قائم کیں اور اپنی یونیورسٹیوں میں علوم عقلی اور فنون عملی کو بطور نصاب پڑھایا تو دنیا کی کوئی قوم ان کا مقابلہ نہ کر سکتی تھی۔ مصر ،بغداد اور قرطبہ کے تعلیمی ادارے اپنی مثال آپ تھے۔ اہل یورپ اپنی جہالت دور کرنے کے لیے سرزمین اندلس کا رخ کرتے تھے۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کے مسلمانوں نے علمی میدان میں کام چھوڑ دیا۔ تقلید کی جگہ اندھی تقلید اور عمل کی جگہ بد عملی کو اپنایا تو خدا نے انہیں ہر جگہ ان کا غلام بنا دیا جو علم و عمل میں ان سے فائی تھے۔ کہیں پرتگالی اور کا ہی فرانسیسی استحصال کرتے لگے۔ اہل یورپ نے مسلمانوں کی جگہ لے لی اور علمی دنیا میں حیرت انگیز کارنامے انجام دیے۔ وہ علم کی بدولت پوری دنیا پر چھا گئے۔

علم کی نور نور و ہدایت۔،،

ایل نور اور ہدایت کی روشنی ہے۔ علم جہالت کے پردوں کو چاک کر دیتا ہے۔ یہ بے یقینی اور الحاد کے اندھیروں کو مٹا دیتا ہے۔ علم انسان کے اندر نور ایمان اور شمع ایقان  روشن کرتا ہے۔ علم سے نجات ہوتی ہے علم کے آگے مال و دولت کی کچھ بھی حقیقت نہیں ہے علم سے بے بہرہ محتاج ہے۔ ایک آدمی کا علم اور ہزاروں آدمیوں کی عبادت برابر رہی ہو سکتی۔ عالم کا ایک دن جاھل کی تمام عمر سے زیادہ ہے۔ جس آدمی میں علم نہیں وہ آدمی نہیں جانور ہے۔

سعادت، سیادت، عبادت ہے علم

بصیرت ہے ،دولت ہے ،طاقت ہے علم

تکمیل سیرت۔،،

علم انسانی اخلاق و سیرت کو تعمیر کرتا ہے۔ علم انسان کے طرز معاشرت کو  بندبناتا ہے۔ یہ انسان کے اندر عجز و انکساری، رواداری بندگی، ایثار قربانی صبر و تحمل فقرات اور محبت اور اخوت کے بیج بوتا ہے۔ علم دلوں کے اندر خلوص اور محبت، اخلاق اور پاکیزہ جذبہ پیدا کرتا ہے۔ علم دلوں کی کثافت دور کر کے روحانی لطائف پیدا کرتا ہے۔ یہ انسانیت کے جذبے کو جلا بخشتا ہے۔ قوم کی دینی اور فکری رہنمائی کرتا ہے۔ علم انسان کو صرا طِ مستقیم پر چلاتا ہے۔ یہ برائیوں اور گناہوں سے انسان کو بچاتا ہے۔ یہ    ہمہ وقت کا رفیق اور ہمدرد ساتھی ہے۔ خدا اور رسول کی پہچان علم سے ہوتی ہے۔

عظیم سرمایہ۔،،

علم عظیم سرمایہ ہے یہ لازوال دولت ہے۔ علم کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ علم ایسا خزانہ ہے جسے کوئی چرا نہیں سکتا۔ یہ خرچ کرنے سے بڑھتا ہے  گھٹتا نہیں۔ یہ غیر فانی دولت ہے۔ یہ دولت کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔ علم مال و دولت سے برتر اور بلند مقام رکھتا ہے عالم نبیوں کا  وارث ہوتا ہے مال انسان کو گمراہ کر سکتا ہے لیکن   علم

انسان کو صحیح راستہ دکھاتا ہے۔

عزت کا ذریعہ۔،،

علم انسان کی عزت و قدر میں اضافہ کا موجب بنتا ہے۔ عالم کی ہر جگہ عزت ہوتی ہے وہ ہر جگہ معزز و محترم ہے۔ سکندر اعظم اور ہارون رشید جیسے نامور بادشاہ عالم کے آگے سر خم کئے ہوئے ہیں۔ ارسطو، افلاطون ،لقمان، بقراط، بوعلی سینا، امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ، امام غزالی،  شیخ صدی، مولانا شبلی، حالی، اقبال علم ہی کی وجہ سے آج زندہ تابندہ ہے۔

سائنسی ترقی کا ذریعہ۔،،

سائنسی ترقی علم ہی کی مرہون منت ہے۔ ریڈیو ،ٹی وی،وی سی آر ،ٹیلی فون، دوربین، کمپیوٹر، بجلی، ایکسرے پلانٹ،ایٹمی توانائی وموصلاتی سیارے، ہوائی جہاز ،ریلیز سب کچھ علم ہی کے  ذریعہ سے حاصل ہوا ہے۔ روبوٹ خدمت کے لئے تیار کیے جا رہے ہیں۔ دفاع کے لیے لاکھوں والاتحاد اور خودکار ہتھیار وضع کیے جا چکے  ہیں ۔ علم ہرآن اور ہر گھڑی نئی سے نئی ایجاد کر کے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال رہا ہے۔

خفیہ خزانوں کی درافت۔،،

علم انسان کے لیے خفیہ خزانوں کو دریافت کرتا ہے۔ آج علم کی بدولت سطح ارض پر تبدیلیوں کے مشاہدات کیے جارہے ہیں۔بری اوربحری خزانے دریافت کیے جا رہے ہیں۔

 

  پابندی وقت

مفہوم۔:

پابندی وقت کا مطلب ہے ہر کام وقت مقرر پر انجام دینا۔

اہمیت۔۔۔

پابندی وقت حیات انسانی میں بے حد اہمیت کی حامل ہے ۔ کائنات میں پابندی وقت کا بہت زیادہ اعتماد کیا گیاہے۔ جو قومیں انفرادی اور اجتماعی طور پر وقت کی پابندی کرتی ہیں وہ دنیا میں اپنا مقام حاصل کر لیتے ہیں اور جو قومی وقت کی پابندی کا خیال نہیں کرتی زمانہ پاؤں تلے روند دیتا ہے۔

نظام کائنات۔۔۔

نظام کائنات پابندی وقت سے چل رہا ہے سورج وقت پر طلوع ہوتا ہے اور وقت پر غروب ہوتا ہے موسم وقت پر آتے ہیں اور وقت پر ختم ہوتے ہیں چاند کے طلوع و غروب کا وقت مقرر ہے۔ سیاروں کی اپنے مدار میں گردش وقت کی پابندی ہے برف کا پگھلنا۔ باد نسیم کا چلنا پھولوں کا کھلنا مدوجزر کا پیدا ہونا سب وقت کی پابندی کے محتاج ہیں۔

روزمرہ کے مشاہدات۔؛

کسان وقت پر فصل کاشت کرتا ہے اور وقت پر انہیں کاٹتا ہے باغبان پودوں کو وقت پر پانی دیتا ہے اور وقت پر پھل حاصل کرتا ہے۔ دفاتر وقت مقرر پر کھلتے اور بند ہوتے ہیں فیکٹریوں اور کارخانوں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات مقرر ہیں  ریلیں ٹائم ٹیبل کے مطابق چلتی ہیں۔ تعلیمی ادارے وقت پر کھلتے ہیں اور وقت پر بند ہوتے ہیں امتحانات کے وقت مقرر ہیں اور  ارضیہ زندگی کا  شعبہ پابندی وقت سے منسلک ہے۔ اگر  کسی بھی شعبہ میں وقت کی پابندی سے انحصار کیا جائے تو پورا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ پیر زندگی کے تمام رعنائی حسن اور دلکشی افراد تفری میں بدل جائے گی۔

مذہب اسلام میں وقت کی پابندی۔۔۔

اسلام جو دین فطرت ہے وقت کی پابندی پر سب سے زیادہ زور دیتا ہے اسلام عملی طور پر پابندی وقت کی تربیت دیتا ہے۔ نظام پانچ گانا ماہ رمضان کے روزے سحری و افطاری حج قربانی عیدی اور تمام دینی فرائض وقت کی پابندی کا پیغام دیتے ہیں۔ اللہ تعالی نے عبادت کا وقت مقرر فرما کر انسان کو خبردار کیا ہے دنیا عارضی ہے انسان خسارے میں ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ وقت قیامت ضرور آ کر رہے گا۔ دنیا کی زندگی ختم ہونے سے آخرت کی فکر کر لیں وقت کی قدر کریں یہ دوبارہ حاصل نہ ہوگا۔

پابندی وقت ترقی کا موجب۔:

دنیا میں جتنی قومیں بام عروج پر پہنچی ہیں انہوں نے وقت کی پابندی کو شعار بنایا ہے۔  ان کے معمولات وقت مقرر سے شروع ہوتے ہیں برطانیہ جرمنی امریکہ اور فرانس کے ممالک میں وقت کے ایک ایک لمحے کی قدر کی جاتی ہے۔ آج انسان مریخ سے آگے کمندیں ڈال رہا ہے۔ یہ اسی سبب سے ہے کہ انسان نے وقت کی قدر پہچان لی مشہور ضرب المثال الوقت سیف قدمی وقت کاٹنے کی تلوار ہے غلام اور پسماندہ قوموں کے دلوں میں پابندی وقت کا خیال نہیں رہتا۔ وہ وقت کو فضول بحث اور لایعنی باتوں میں ضائع کر دیتے ہیں جب کہ ترقی یافتہ قومیں وقت کے ہار لمبے کو تعمیری کاموں میں صرف کرتی ہیں کہا جاتا ہے کہ جس میں مسلمانوں نے اندلس فتح کیا تو وہاں کے بڑے کار جاگ گھر میں چھوٹی کے مسیحی علماء و فقہاء اس مسئلہ پر بحث کر رہے تھے کہ سوئی کی نوک پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں۔

وقت کی پابندی نہ کرنے کا نقصان۔:

پابندی وقت نہ کرنے سے تمام نظام درہم برہم ہو جاتا ہے کہ ان فصلوں سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے طالب علم امتحان میں ناکام ہو جاتا ہے کارخانے اور فیکٹریاں دیوالیاں ہو جاتے ہیں ملازم اپنی ملازمین کو کھو بیٹھتے ہیں مسافر گاڑی میں سوار ہو جانے سے رہ جاتے ہیں ایک عجیب بدنظمی پیدا ہوجاتی ہے۔ اجتماعی طور پر قوم تنزل اور پستی میں گر جاتی ہے۔ وقت کی پابندی نہ کرنا غلام اور بیمار کا  شیوا ہے۔ آزاد قوم وقت کو ضائع کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی مشہور فاتحہ چند لمحوں کی تاخیر کے بعد جنگ آگیا۔ سینکڑوں ایسے واقعات موجود ہیں جہاں قومی چند لمحوں کی قدر نہ کرنے سے صدیوں پیچھے چلی گئی۔ یہ تو ایسا جواربھاٹا ہے جو ایک دفعہ عمرہ تو دوبارہ واپس نہیں لایا جاسکتا۔

گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

سدا عیش دوراں دکھاتا نہیں

وقت کی دوستی۔:

وقت کی قدر کی جائے تو انسان کا بڑا دوست ہے۔ یہ حق دوستی ادا کرتا ہے۔ انسان مستعدی اور فرض شناسی سے کام لے تو وقت اسے کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کرتا ہے۔ اسے محنت کا بہترین پھل دیتا ہے فتح نصرت کا پیغام دیتا ہے کامیابی اس کے قدم چومتی ہے آج دنیا میں جتنی رونق کو دلکشی ہے یہ وقت کی دوستی ہی تو ہے جو افراد آگے بڑھ کر ان کا دامن تھام لیا ہے۔ وہ طوفان کا رخ موڑ دیتے ہیں قوم کی نوکوں منجدھار سے نکال کر باہر لے آتے ہیں۔ پھر وقت اپنے سینے میں ان کا ناکام ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیتا ہے صدیاں گزر جاتی ہیں مگر قوم کے ہیرو زندہ تابندہ رہتے ہیں۔

وقت کی دشمنی۔:

وقت انسان کا دشمن بھی ہے اگر انسان کا فل سے کام لے اور خواب خرگوش میں پڑا رہے تو وقت کے اپنے پاؤں تلے روند کر گزر جاتا ہے ۔ اس کا نام و نشان مٹا دیتا ہے اس کے ایسے میں سوائے ناکامی کی کچھ نہیں آتا۔

پابندی وقت کا احساس۔:

انسانی زندگی بہت مختصر ہے لہٰذا ہمارا فرض ہے کہ ہم اس وقت کو غنیمت جانے۔ وقت کی پابندی کریں اور اس مہلت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں ایسے کام کر جائیں جو رہتی دنیا تک جاگ رہے ہیں۔

دنیا ۓ دنی کو نقش فانی سمجھو

روداد جہاں کو ایک کہانی سمجھو

‏ پرجب کرو آغاز کوئی کام بڑا

ہر سانس کو عمر جاودانی سمجھو

 

تعلیم نسواں

تمہید۔۔۔

خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم کو تعلیم نسواں کہتے ہیں۔ مرد عورت گاڑی کے دو پہیے ہیں معاشرتی زندگی کی گاڑی ان دو پیو پہ ہی چلتی ہے۔

ترجمہ۔:

اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی پرورش کروانا علم سکھاؤ ان مذہب بناؤ کیونکہ علم بہترین سہارا ہے۔

اہمیت و ضرورت۔

علم نور ہے یار قسم کے اندھیرے کی جیب اس کے ذریعے جہاں معرفت الہی حاصل ہوتی ہے۔ وہی دولت دنیا بھی نصیب ہوتی ہے اور زندگی گزارنے کے اصول بھی ہمیں علم ہی سے حاصل ہوتے ہیں۔ یورپی عوام ترقی کے میدان میں اس لیے آگئے ہیں کہ وہاں کے لوگ سو فیصد تعلیم یافتہ غیر مرد و زن کی تخصیص کے۔

ایک کریم یافتہ بیٹی ہے ایک تعلیم یافتہ ماں بنتی ہے اور ایک تعلیم یافتہ معاشرے کو بہترین الا دیتی ہے جو معاشرے کے بہترین اور ذمہ دار افراد بنتے ہیں ملک کو چلاتے ہیں دفاتر کو سنبھالتے ہیں اور لڑکیوں کی شکل میں گھروں کو جنت کا نمونہ بن جاتے ہیں۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان کی روح سے علم حاصل کرنا مرد اور عورت دونوں پر فرض ہے ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہے اگر ماں تعلیم یافتہ اور سلیقہ شعار ہوگی تو اس کی اولاد بھی مذہب اور شائستہ ہوگی بچے کا زیادہ وقت ماں کی صورت میں گزرتا ہے اور ماں کی عادت تو وہ اتوار کا بچے پر گہرا اثر پڑتا ہے جبکہ جیلما بچے کے اخلاق و اطوار کو تباہ کر دیتی ہے اچھی معلومات اور خوراک سے بڑھ کر بچے کی تعلیم اور تربیت کا خیال رکھتی ہے۔ کسی بری سی سوسائٹی سے بچاتی ہے اور اس کے دماغ میں کو عمدہ خیالات کا مرکز بنتی ہے یہی بچے بڑے ہو کر ملک و قوم کے لئے بس فار ثابت ہوتے ہیں۔

باپ کا دائرہ کار۔:

میری چھوٹی سلطنت جس میں باپ کا رول محافظ اور کمانے والے کا ہے۔ وہ ساری دنیا کی مختلف محاذوں پر اپنے آپ کو خبر کر اہل و عیال کے لیے قوت لا یموت مع یا کرتا ہے۔ گھر کے اندرونی معاملات سے اس کا زیادہ وقت نہیں ہوتا۔

بیوی کی حیثیت۔:

بچوں اور بچیوں کی پڑھائی ان کی تربیت ان کے اعداد و اطوار کی نگرانی ان کی خوراک و لباس کا انتظام اور ان کی کردار پر کڑی نگاہ رکھنا کام ہے۔ وہ ہمارا گھر میں رہتی ہے اور گھر کے متعلق نظم ہے وہ اسٹڈی سلطنت کی وزیر داخلہ اور وزیر اعلی ہے اس کی وجہ سے یہ چھوٹی سلطنت آباد پر رونق ہے ماں  کے پاؤں کے نیچے جنت ہے۔ عورت کے لیے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی از بس ضروری ہے۔

بعض لوگ لڑکیوں کے لئے صرف دینی تعلیم کو ہی کافی سمجھتے ہیں۔ باقی دنیاوی تعلیم کو وہ ان کے لیے خطرناک نقصان بے خیال کرتے ہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ اس میں تعلیم کا قصور نہیں بلکہ تربیت اور غلط ماحول کا قصور ہے۔ لڑکی کو دونوں قسم کی تعلیم حاصل کرنی چاہیے دنیاوی تعلیم حاصل کر کے  وہ شمع محفل نہ  بن جائے بلکہ سے چراغاں  بننا چاہیے ۔ جاتک فطری صلاحیتوں کا تعلق ہے۔ عورت مرد سے کسی طرح کمتر نہیں اس نے تاریخ میں بڑے کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں میں انجام دیے ہیں۔ قدرت نے جو فطری خوبی عورت کو بخشی ہیں ان سے فائدہ اٹھانے کے لئے اسے تعلیم یافتہ بنانا ضروری ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ مردوں اور عورتوں کی تعلیم کا نصاب الگ الگ اور ان کی ضرورتوں کے مطابق ہوں کیونکہ عورت اور مرد کا دائرہ عمل قدرتی طور پر ایک دوسرے سے جدا ہے۔

 

۔ چاندنی رات۔،،

تمہید۔،،

چاندنی رات اللہ تعالی کی عطا کردہ وہ ایک بڑی نعمت ہے۔ چاندنی رات میں ہار شاۓ  دہلی اور  نکھری

ہوتی دکھائی دیتی  ہیں۔ جب انسان اندھیری راتوں کی بے کیفی سے اکتا جاتا ہے تو اس کے دل میں چاندنی کے سہانے اور کیف آفریں منظر سے لطف اندوز ہونے کی حسرت پیدا ہوتی ہے۔  ۔

چاندنی رات کی دلفریبی۔،،

چاند کا لفظ کتنا پیارا ہے۔ جب کوئی عزیز دوست مدت کے بعد ملتا ہے تو اسے دیکھ کر یہ الفاظ زبان پر آ جاتے ہیں۔،، آہا۔،، یہ چاند کے کدہر سے نکل آیا،، آیا،، آپ تو عید کا چاند ہی ہو گئے ہیں۔،،    ماں   اپنے بچوں کو،، ،،میرا چاند ،،کہہ کر پکارتی ہیں۔

چاندنی رات میں باغ کی سیر عجب لطف دیتی ہے۔ چاند کی    دو دہیا روشنی میں گلہائے رنگا رنگ کا حسن اور بھی نکھر آتا ہے۔ درختوں کے پتوں سے جب چاندنی چھن چھن کر آتی ہے تو منظر بڑا ہی دلکش دلفریب ہو جاتا ہے۔ ایسے میں دن بھر کی کلفت اورنج والم دور ہو جاتے ہیں۔ چاندنی رات کا منظر شاعروں اور ادیبوں کے جذبات میں بھی ہلچل پیدا کرتا ہے۔ شاعر کے خیالات  مچلتے ہیں۔ طبیعت میں جولانی پیدا ہوتی ہے۔ عشاق۔ پرچاندنی رات کے سحر کا اثر بیان سے باہر ہے۔ غرض کے ہر آدمی سے لطف اندوز ہوتا ہے۔  چاندنی رات میں دریا کے کنارے    جا   نکلیں تو ایسا دلفریب اور سحر انگیز منظر نظر آتا ہے طبیعت سیر ہونے کو نہیں آتی اور کس طرح جی نہیں بھرتا۔ چاندنی کا عکس پانی میں ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ایک سنہری اور سی میں کشتی ہچکولے کھا  رہی ہو  ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اور چمکتا ہوا پانی غمگین دلوں کی کلیوں کو بے اختیار کھل جانے پر آمادہ کرتا ہے۔

ماہ شب چودھویں رات کا چاند جب جوبن پر ہوتا ہے اور چہار سو سفید چاندنی چٹکتی ہے تو اس وقت کا منظر دیکھنے والا ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کسی ماہر کاریگر نے پوری کائنات پر  قلعی   پھیر دی ہے۔

ہر شجر ،ہرحجر اور ہر شے روشنی میں نہائی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ بقول شاعر

تجلی کثافت کو دھونے لگی

مکانوں پہ قلعی سی ہونے لگی

بنے  آئینہ سارے در و دیوار

سفیدی پھری ہر در و بام پر

چاندنی رات سے ہر ذی روح لطف اندوز ہوتا ہے ۔اس سے روحانی مسرت ،آنکھوں کی طروات اور دل کو راحت حاصل ہوتی ہے۔ مدو جزر چاندنی سے پیدا ہوتا ہے جو ساحلی علاقوں کے لیے بہت مفید ہے ۔الغرض  چاندنی ہر شے کو متاثر کرتی ہے۔

چاندنی شب بھر دکھاتی ہے زیاۓ روئے نور

ذرہ ذرہ۔صبح کو کہتا ہے میں ہوں برق طور

۔ ریل کا سفر/ ایک ناقابل فراموش واقعہ۔

سفر کا سبب،،

یوں تو میں نے زندگی میں بہت سے سفر کیے ہیں لیکن 10 کی یاد اب بھی میرے دل میں باقی ہے میں سے کوشش کے باوجود بھی بھلا نہیں سکا اور آج بھی اس سفر کا منظر میری آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔

واقعہ یوں ہے کہ مڈل کے سامنے سلانا امتحان سے فارغ ہو کر میرا دل چاہا کے راولپنڈی اپنے چچا جان کے ہاں سے ملاقات بھی ہو جائے امتحان سے جو ذہنی تھکن ہوئی ہے وہ بھی دور ہو جائے۔

سفر کا آغاز-:

اگلے دن گھر والوں سے اجازت لے کر میں تانگہ پر سوار ہوکر اسٹیشن جاپہنچا اسٹیشن پر خلاف معمول زیادہ ہی بھیڑ تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد گاڑی آ پہنچی میں نے ایک بلی کی مدد سے سامان ایک ڈبے میں رکھوایا اور پھر خود سوار ہوگیا مجھے دروازے کے قریب ایک خالی سیٹ مل گئی۔

دورانے سفر -:

گاڑی نے سیٹی بجائی اور آہستہ آہستہ رینگنے لگی۔ یہ خیبر میل تھی میں باہر کے مناظر سے لطف اندوز ہونے لگا یہ غروب آفتاب کا وقت تھا۔ رفتہ رفتہ شام کا اندھیرا چھانے لگا اور بجلی کے کام کے جگمگا اٹھے۔ میں نے ڈبے کا جائزہ لیا تین چار آدمی اوپر کی برتھ پر بیٹھے تاش کھیل رہے تھے۔ وہ دو آدمی جگہ پر نہ تھے لیکن ساتھ ہی میرا اٹیچی بھی غائب تھا میں دل پکڑ کر رہ گیا۔

باقی سامان بھی لوٹ گیا،،

جب گاڑی گجرات ہے اسٹیشن پر رکی تو ایک بابو جی ہاتھ میں بیگ لیے ڈبے میں سوار ہوگئے میں اور اخلاق ان کے لیے جگہ بنا دیا انہوں نے میرا شکریہ ادا کیا اور نیند آرہی ہے جب جہلم کا اسٹیشن آئے تو مجھے جگہ دینا میں نے سے جگانے کا وعدہ کیا اور سو گئے۔ میں کھڑکی سے باہر جھانکنے لگا دی رات میں درختوں کے سائے کے پیچھے کی طرف بھاگتے یوں دکھائی دے رہے تھے جیسے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں رات کھنکتی مجھ پر نیند کا غلبہ ہوگا میں سو گیا آنکھ کھلی تو جہلم کا اسٹیشن آچکا تھا میں نے بابو جی کی طرف دیکھا تو وہ غائب تھے۔ جب کافی دیر نہ آئے اور گاڑی بھی چل دیں تو میں نے سامان کی طرف دیکھا آپ کی دفعہ میں پھر لوٹ چکا تھا۔ میرا بستر اور بیک دونوں غائب کے بابوجی یہ دونوں چیزیں لے کر غائب ہو چکے تھے۔

خالی ہاتھ راولپنڈی پہنچا،،

میں اس سفر میں اپنی ہر چیز سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا میں نے بہت شور مچایا بہت تلاش کیا لیکن سامان نام لاہور راولپنڈی اسٹیشن آگے میں بوجھل دل کے ساتھ اسٹیشن پر اتر جاتے تھوڑی ہارے مسافر کی طرف پیدل ہی چل جان کے گھر کی طرف چل پڑا یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس میں آج تک فراموش نہیں کر سکتا۔

نتیجہ-:

عربی کی مشہور مثل ہے۔ جس کا ترجمہ ہے سر سفر  جہنم کا حصہ ہے۔ اس نسل کا مطلب رابطے کی تکلیف سے ظاہر کرتا ہے مجھے راستے میں تکلیف تو کوئی نہ اٹھانی پڑی البتہ ان کا صفایا ہو گیا اور یہ سب بھی ہمیشہ کے لئے مل گیا کے سادہ لوحی کے ساتھ ہر کسی پر اعتبار کرنے کی بجائے ہوشیار رہ کر سفر کرنا چاہیے نہ تو کسی قیمت پر بھی نہیں چاہیے۔۔۔

 

۔ میری پسندیدہ کتاب۔

میری پسندیدہ کتاب-:

دو حاضر علم و ادب کی ترقی کا دور ہے ہر موضوع پر اچھی سے اچھی کتاب مل جاتی ہے ہمارے شاعر اور ادیب اپنی تصانیف کے ذریعہ اردو ادب میں گرانقدر  اضافہ کر رہے ہیں۔ اس لیے اس گراں بہا زخیرے میں سے اپنی پسند کی کسی ایک کتاب کا انتخاب کرنا اتنا آسان کام نہیں تھا ہم اگر کوئی مجھ سے میری پسندیدہ کتاب کے بارے میں سوال کریں تو میں پورے اعتماد کے ساتھ یہ کہوں گا کہ علامہ اقبال کی کتاب بانگ درا میں  مجھے سب سے زیادہ پسند ہیں۔

تعارف۔،، بانگ درا علامہ اقبال کی اردو نظموں کا اولین مجموعہ ہے جو سب سے پہلے ستمبر 1924میں شائع ہوا اور اب لاکھوں کی تعداد میں چھپ چکی ہے یہ کتاب 336 صفات پر مشتمل ہے اور اس کے تین حصے ہیں حصہ اول میں 5 190 تک کی نظمیں ہے۔ آیت 2 مئی 1998 کنز میں شامل ہے اور حصہ سوم میں 1908 کے بعد کا کلام ہے۔

دیباچہ،،

بانگ دار کا دیباچہ سوار شیخ عبدالقادر نے لکھا ہے انہوں نے علامہ اقبال کی شخصیت اور شاعری پر بھرپور روشنی ڈالی ہے اور مفصل تبصرہ کیا ہے یہ دفعہ کاری کو علامہ اقبال کی شاعری اور کلام کو سمجھنے کا موقع دیتا ہے۔

موضوعات،،

بادام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کی نظمیں ایسے موضوعات پر لکھی گئی ہیں جن پر اس سے قبل کئی شاعر نے قلم نہیں اٹھایا تھا۔ بہت ہی نرم قدرتی مناظر کی عکاسی کرتی ہے مسلسل ہمالیہ ابرکوھسار ایک آرزو مانو نمود صبح وغیرہ۔۔

 

بعض میں قومی اور ملی جذبات و احساسات کی آئینہ دار ہے جن میں تصویر درد ترانہ ملی شکوہ جواب شکوہ خطاب جوانان اسلام شمع اور شاعر خضر راہ اور طلوع اسلام وغیرہ۔ اس کے علاوہ بچوں کے لیے بھی بعض میں لکھی گئی ہے جیسے ایک مکڑا اور مکھی پرندے اور جنگجو پہاڑ اور گلہری ایک گائے اور بکری وغیرہ۔

علامہ اقبال ایک فلسفی شاعر ان کی شاعری میں فلسفے کا رنگ بہت نمایاں جس کی وجہ سے بعض اوقات ان کے اشعار کو سمجھنا بہت مشکل ہو جاتا ہے بانگ درا کی نظمیں نسبتا آسان ہے انہیں ان نظموں کو اکثر اوقات مزے لے لے کر پڑھتا ہوں۔

تبصرہ،،

باندرہ جیسی عظیم کتاب کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرنا میری بساط سے باہر ہے کیونکہ نہ تو میں ادیب ہوں اور نہ ہی شاعر ہوں اس لئے مزید کچھ کہنے کے بجائے سر شیخ عبدالقادر کی وفات پر اپنے مضمون کو ختم کرتا ہوں۔

یہ دعوے سے کہا جاسکتا ہے کہ اردو میں آج تک اشعار کی کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس میں خلا تک یہ فروع نیو اور مان جاؤ کیوں نہ ہو ایک صدی کے چار حصے کے  بہت اعلیٰ اور تجربہ مشاہدہ کا نچوڑا اور سیر سیاحت کا نتیجہ ہے۔

باز نظموں میں ایک ایک شعر ایک ایک مصرع ایسا ہے کہ اس پر ایک مستقل مضمون لکھا جاسکتا ہے۔

۔ میرا وطن۔

وطن۔:

جس سرزمین میں انسان پیدا ہوتا ہے جس ملک میں انسان زندگی گزارتا ہے اس ملک کا نام وطن ہوتا ہے۔ میرا وطن پاکستان ہے میں اس ملک میں پلا بڑھا یہی تعلیم حاصل کی اسی ملک جوان ہوا اور ملازمت ملنے کے بعد اسی ملک کی خدمت کر رہا ہوں۔

میرا وطن۔:

پاکستان میرا وطن ہے اس بات کا مطالبہ پاکستان کا مطلب لا الہ اللہ کی بنیاد پر بنا ہوا تھا۔ جو میرے ایمان کا جزو ہے میں اس کی آزاد فضا میں سانس لے رہا ہوں۔ یہ میرا وطن لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر حاصل کیا گیا بے شمار بوڑھے بچے عورتیں اور مرد اس کی خاطر ہندوؤں کے ظلم و ستم کا شکار ہوئے۔ مسلمانوں نے ہندوستان میں اپنا کاروبار تجارت زمین جائیداد چھوڑی اور پاکستان آ گئے۔ پاکستان کا مطلب ہے پاک لوگوں کی سرزمین جو بتوں کی پوجا نہیں کرتے بے شمار خدا کو نہیں مانتے غیر اللہ سے اپنی امیدیں وابستہ نہیں رکھتے۔ صرف ایک خدا کو مانتے ہیں اس کی آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں۔

پاکستان کی دولت۔:

پاکستان ہمارا وطن ہے یہ پہاڑوں کا وطن ہے بہادر لوگوں کا وطن ہے یہاں سمندر بہت ہی پار بہت ہی میدان بہت جنگل   بھی ہیں۔ اس وطن کو تاروں نے ہر قسم کی دولت سے مالا مال کیا ہے۔ سب سے بڑی دولت ایمان کی دولت ہے اس کے علاوہ خدا نے ہمارے ملک کو سونا چاندی ہیرے تانبا کو گیس  اور مدنی تیل سے نوازا ہے۔ پاکستانی قوالی ترین دماغ دیا ہے یہ دماغ زندگی کے ہر شعبے میں کارفرما نظر آتا ہے۔ ہماری فوج دنیا کی بہترین افواج میں شمار کی جاتی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ تک اس امراء کا اعتراف کرتے ہیں۔ ہمارے فوجی لفظ خوف اور ناممکن سے واقف نہیں ہیں کارگل اور سیاچن کے علاقے کی مہمات اس کی گواہی۔

صنعت و حرفت۔؛

پاکستان میں ہر قسم کے کارخانے موجود ہیں جو انواع و اقسام کی مصنوعات تیار کرتے ہیں۔ کپڑا جوتے لوہے کی مصنوعات مشینری لکڑی کا بہترین فرنیچر غزوہ تمام ایشیا جہاں تیار ہوتی ہیں جو کسی بڑے ملک میں بنائی جاتی ہیں۔

زراعت۔:

ہمارے کھیت سونا اگتے ہیں پاکستان کی زمین بڑی زرخیز ہے۔ اس زمین میں گندم چاول کپاس گنا دالیں سرسوں وغیرہ خوب پیدا ہوتی ہیں۔ یہ فصل جہاں  ہماری غذائی ضروریات کو پورا کرتی ہیں وہاں ان کی فاضل مقدار بیرون ملک بھی بھیجی جاتی ہے۔ جس سے گرانقدرزر مبادلہ حاصل ہوتا ہے۔

تعلیم۔؛

میرے پیارے وطن میں تعلیم عام ہے بے شمار یونیورسٹیاں کالج سکول اور دوسرے تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں۔ ہماری یونیورسٹیوں میں تدریس کے علاوہ تخلیق کا کام بھی ہوتا ہے۔ ہونہار طلبہ کو وظائف دیے جاتے ہیں۔ انہیں اعلیٰ تعلیم کے لیے باہر کے ملکوں میں بھیجا جاتا ہے۔ جان سے وہ علی فنی اور تعلیمی ڈگری لے کر واپس آتے ہیں اور ملک و قوم کی خدمت کرتے ہیں۔

ہمارا فرض

۔؛ پاکستان ہماری مادر وطن ہے۔ مظہر کا معنی اہمیت جو کچھ میسر ہے وہ اسی مادر وطن کے سینے سے ملا ہے۔ ہم اس کا حق ادا نہیں کرسکتے اس نے جو ہمیں دیا۔ کھانے اور پینے کو دیا ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کی حفاظت عزت و حرمت اور ان کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کردی۔ حضور پاک صل وسلم کا ارشاد ہے!

حب الوطن من الایمان یعنی وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے

 

والدین کی خدمت

والدین عظیم نعمت ہے۔؛

ماں باپ سی نعمت کوئی دنیا میں نہیں ہے

حاصل ہو یہ  نعمت تو جہاں خلد بریں ہے

دنیا کے تمام مذاہب میں والدین کی اطاعت اور فرمانبرداری کا تلقین کی گئی ہے لیکن اسلام نے اس پر کسی اور انداز میں زور دیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ!

ترجمہ ۔۔اپنے والدین کی خدمت کرو جب وہ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک بوڑھا ہو جائے۔ تو ان کے آگے ذلت کا بازو جھکادو یعنی اس طرح سر جھکا کر کھڑے ہو جاؤ جیسے نوکر اپنے آقا کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور انہیں اف تک نہ کہو جتنا تو دور کی بات ہے ۔

والدین کا ا ایثار۔۔۔

والدین اپنی اولاد کے لئے ہر قسم کی تکلیف برداشت کرتے ہیں ماں بچے کے آرام کے لئے ساری ساری رات جاگتی ہے۔ بچہ بیمار ہو جائے تو اسے ڈاکٹروں کے پاس لے کر جاتی ہے اور اس وقت تک اسے چین نہیں آتا جب تک بچا تندرست نہ ہو جائے۔

بچے کو کھانا کھلانا نہانہ بلانا جگانا سب ماں کے فرائض میں شامل ہیں۔ ماں بچے کی خوشی سے خوشی اور تکلیف سے غمگین ہو جاتی ہے۔ باپ کو لین اپنے بچوں کی پرورش کے لئے وہ کیا نہیں کرت دن بھر محنت مزدوری کرتا ہے بھاگا پھرتا ہے اور کچھ ایسے ملتا ہے اپنے بچوں کو خوراک پوشاک کی نظر کر دیتا ہے۔ غرض ماں باپ اپنے عیش و آرام کی پرواہ کیے بغیر اولاد کی تمام سہولتوں اور آسائشوں کا خیال رکھتے ہیں۔ اپنا پیٹ کاٹ دیتے ہیں لیکن اپنے بچوں کو اچھے سے اچھا کھلاتے اور پہناتے ہیں۔ سوز ہے اس اولاد پر اپنے محسنوں کا حق نہ پہچانے اور ان کی خدمت نہ کرے۔

ایک حدیث۔:

ایک مشہور حدیث ہے جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے نیز یہ کہ رب کی رضا بات کی رضا میں ہے۔ اور رب کی نہ خوشی بات کی نا خوشی میں ہے جو شخص اپنے ماں باپ کو خوش کرتا ہے وہ اللہ تعالی کو خوش کرتا ہے۔ اور انہیں ناراض کرتا ہے اللہ تعالی بھی ان سے ناراض ہوتا ہے۔

ماں کی عظمت۔:

حضور صلی اللہ وسلم سے کسی صحابہ نے پوچھا کہ میں سب سے زیادہ کس کی خدمت کرو۔

آپ سلم نے اپنی ماں کی صحابہ کے تین دفعہ پوچھنے پر آپ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہی لفظ دورائے۔ خدا اور رسول خدا کے ان واضح ارشاد کی روشنی میں ہمارا یہ انسانی اخلاقی اور دینی فرض ہے کہ۔ ہم اپنے والدین کی دل و جان سے خدمت کریں ان کا ہر کام خوشدلی سے بجا لائیں اور انہیں کسی وقت بھی ناراض نہ کریں۔

نتیجہ۔:

جو لوگ اپنے والدین کی فرما برداری کرتے ہیں کل وہی اپنی اولاد سے بھی فرمابرداری اور خدمت کی توقع کر سکتے ہیں

سب سے بڑی سعادت ماں باپ کی ہے خدمت

سب سے بڑی عبادت ماں باپ کی خدمت

۔ استاد کا احترام۔۔:

استاد کا درجہ‘:

والدین بچے کی جسمانی پرورش کرتے ہیں جب کہ استاد کے ذمے بچے کی روحانی تربیت ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے استاد کی حیثیت اور اہمیت والدین سے کسی طرح کم نہیں ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ہے۔ کیوں کہ روح کو جسم پر فوقیت حاصل ہے اور استاد کا تعلق روح سے ہے۔

اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو استاد کی اہمیت ایک مقام ارفع و اعلی ہے۔ استاد جی قوم کے بچوں کی تعلیم و تربیت کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے استاد قوم کے نوجوان کو علم و فنون سے آراستہ کرتا ہے اور انہیں اس قابل بناتا ہے کہ وہ مستقبل میں ملک و قوم کے بہترین ممار ثابت ہو۔

رسولُ اللّٰهﷺ  کا ارشاد!۔:

قرآن مجید میں ارشاد ہے!

ترجمۂ۔۔

پیغمبرﷺ  تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمہیں وہ کچھ سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے۔،، اللہ تعالی کی رہنمائی میں رسول اکرم ﷺ ایک استاد کی حیثیت رکھتے ہیں اور صحابہ کرام نے جو کچھ حضور اکرامﷺ سے حاصل کیا اسے دوسروں تک پہنچانے کی ذمہ داری بڑے احسن طریقے سے سر انجام دیں۔

حدیث نبوی۔:

حضورﷺ کا ارشاد ہے۔

ترجمہ بے شک میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔

حضورﷺ میں استاد کو ایک طالب علموں کے باپ کا رتبہ دیا اور ایک موقع پر فرمایا خوشامد صرف استاد کے لئے جائز ہے۔

حضرت علی کا قول۔:

حضرت علی کا قول ہے کہ جو شخص نے مجھے ایک لفظ سکھایا وہ میرا استاد اور اس کا استاد کا احترام کرتا ہوں۔

امام غزالی کا قول۔:

امام غزالی نے کہا کہ جب تک تم اپنا سب کچھ علم کو نہ دے ڈالو علم تمہیں اپنا کوئی حصہ بھی نہیں دے گا۔

استاد کا رہنما۔:

دنیا کا ہر کام میں نہ طلب ہے اور علم حاصل کرنے کے لیے اگر کوئی بہتر رہنمائی ہے تو وہ بھی اچھا ہے اور استاد کو چاہیے کہ وہ اپنے طالب علموں کو پوری محنت لگن اور جانفشانی سے پڑھائے۔

استاد کا ادب و احترام۔۔۔۔*

علماء جی اور انکساری کو پسند کرتا ہے۔ اچھے طالب علم استاد کی عزت کرتے ہیں اور ان کے دلوں میں استاد کا احترام ہوتا ہے۔ اگر کوئی سوال پوچھنا بھی ہو تو ادب اور احترام کے ساتھ پوچھتے ہیں۔ علم کی قدر کرنے والے دنیا میں کبھی ناکام نہیں ہوتے۔

استاد محسن انسانیت۔:

استاد انسانیت کا محسن ہے وہ علم کا حصول آسان بناتا ہے۔ استاد علم کے ذریعے بچوں کو دنیا میں رہنے کے ڈانس کھاتے ہیں اور معاشرے کے فوائد رکن بناتا ہے۔ علم سکھا کر بہترین انسان بناتا ہے۔

معمار قوم۔۔

والدین کے بعد استاد قوم کا معمار ہے۔ وہ اپنی ساری صلاحیتیں اور اپنا سارا علم اپنے شاگردوں کو منتقل کرتا ہے اور سونے کو کندن بنانے کا کام کرتا ہے۔ وہ طالب علم جو کن زین ہوتے ہیں استاد ان کو علم سکھا کر قابل فخر انسان بنا سکتا ہے۔ جو آگے چل کر قوم اور ملک و ملت کے لیے اچھے انسان ثابت ہوسکتے ہیں۔ ذہین طالب علم بچے اچھے استاد سے علم حاصل کر کے قابل تقلید مثال قائم کرتے ہیں۔ ایک مثال ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال کی ہے جس کی شمع العلما مولوی میر حسن جیسے قابل استاد ملے۔

استاد اور معاشرہ۔۔‘:

ایک نیک ایک اچھا استاد یہ اچھا معاشرہ پیدا کر سکتا ہے۔ جس معاشرے کو اچھے استاد ملتے ہو یقیناً وہ بہتر مشورہ ہوگا اس میں مستقبل کے معمار پیدا ہوتے ہیں۔ سینس دان انجینئر ڈاکٹر بنتے ہیں۔ آج کے سائنسی دور میں ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ مقابلہ کر سکیں گے۔

زندگی ہو میری پروانے کی صورت یا رب

علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب

کمپیوٹر

حیرت انگیز ایجاد_:

کمپیوٹر ہے تو ایک بے جان مشین مگر اس کی کئی خصوصیات  ایسی  ہیں جو صرف زندہ انسانوں میں ہوتی ہیں_

کمپیوٹر ایسے بے شمار کام کرتا ہے جو ایک آدمی کا ایک گھنٹوں اور کئی دنوں میں کرے  کمپیوٹر چندرابابو میں کر ڈالتا ہے_ یہ اس دور کی حیرت انگیز ایجاد ہے

خصوصیات_:

کمپیوٹر ہے  تو ایک بے جان مشین مگر اس  کئ خصوصیات ایسی ہیں جو صرف زندہ انسانوں میں ہوتی ہے اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے

کہ آپ اس بات چیت  کر سکتے ہیں یہ بات ہماری کسی زبان، اردو انگلش میں نہیں ہوتی بلکہ کمپیوٹر کی اپنی زبان میں ہوتی ہے جو سیکھی جاتی ہے

بات چیت:

اس کا ایک بورڈ ہوتا ہے اس بورڈ پر بہت سے بٹن لگے ہوئے ہوتے ہیں ہر بٹن پر ا یک حرف  ہندسہ لکھا ہے جو بٹن بھی دبایا جائے سامنے سکرین پر وہی حرف لکھا ہوا آجاتا ہے_

بس کمپیوٹر سے بات چیت کا یہی ایک طریقہ ہے ہم ان بٹنوں کمی مدد سے کمپیوٹر کی زبان میں الفاظ لکھتے جاتے ہیں وہ الفاظ کو سمجھتا ہے اور جب ہم کوئی سوال کرتے ہیں تو وہ فورا اس کا جواب دے دیتا ہے

 

یادداشت:

کمپیوٹر کی دوسری بڑی خصوصیات اس کی یاداشت ہیں کمپیوٹر ایک عام آدمی سے بھی زیادہ باتیں یاد ر کھ سکتا ہے کمپیوٹر کی کمپیوٹر کو کوئی  بھی بات صرف ایک بار بتانی پڑتی ہے اور یہ صرف  سیکنڈ ساری باتیں محفوظ کر لیتا ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ یہ سب کچھ کمپیوٹر کو اس کی اپنی زبان  میں یاد کرانا پڑتا ہے کمپیوٹر صرف  تحریریں ہی نہیں  تصویریں نقشے  حسابی سوالات اور ہر طرح کی معلومات بھی اپنے حا فظے  میں ذخیرہ کر لیتا ہے  اور ضرورت پڑنے پر فورابیان کر دیتاہے  نہ ہی آپس میں معلومات گڑ مڑ  ہونے دیتا ہے اس کی حافظے میں جو معلومات آپ کو درکار ہوں آپ جب چاہیں کمپیوٹر کو اس کی زبان میں حکم دیں وہ چند ہی سیکنڈ میں وہ معلومات ویسے کی ویسے آپ کو

فراہم کر دے گا۔ اگر وہ  معلومات تحریر کی شکل میں ہیں تو وہ   تحریر سکرین پر آ جائے گی اگر وہ تصویر کی صورت میں ہی تصویر  بن جائیں گی

مشینی دماغ:۔

کمپیوٹر   دراصل مشینی دماغ ہے بڑے بڑے ادارے اور بستر آپنے حسابات کمپیوٹر کے حافظے میں محفوظ کرتے ہیں جب حسابات کی جانچ پڑتال  کئ کئی دنوں کا کام ہوتا تھا اب وہی کام چند منٹوں میں مکمل ہو جاتا ہے

مقاصد:۔

کمپیوٹر  ایک سےایک مقصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے

1۔ ہوائی کمپنیاں اپنے ٹکٹوں کی تیاری  ترسیل اور جراءکا کام کمپیوٹر سے لیتی ہے

2۔ ڈاکٹر حضرات مریضوں کی کی پیچیدہ ٹیسٹ کمپیوٹر سے کرتے ہیں اس طریقے سے وقت بھی کم لگتا ہے اور غلطی کا امکان بھی نہیں ہوتا۔

3۔انجینرٔ کل صبح جو بڑی بڑی بلند عمارتیں  پل، ڈیم اور سڑکیں بناتے ہیں وہ ان کے نقشے کمپیوٹر ہی سے پیار کرتے ہیں کمپیوٹر کسی عمارت یا پل غیرہ کی منصبوطی کے بارے میں ھبی مکمل معلومات فراہم کرتا ہے اور اس کو بہتر بنانے کے مفید مشورے بھی دیتا ہے

4۔ برائے کمپیوٹر کی مدد سے اپنے جہاد کی اوران رفتار بلندی اور سمت کے تعین کو کنٹرول کرتے ہیں اور خرابی کی نشاندہی بھی کرتا ہے

5۔   سائنس دان خلاء میں جو راکٹ اور سیارے بھجیتے ہیں ان سب کو کمپیوٹر کی مدد سے کنٹرول کیا جاتا ہے اور ان سیاروں اور چاند گاڑیوں کی مہیا کی گئ معلومات کو کمپیوٹر میں ہی ریکارڈ کیا جاتا ہے

مشینی لائبریری:۔ کمپیوٹر سائنس  تحقیقیات میں انسانی دماغ کی بہت مدد کرتا ہے جن سائنسی معلومات کو ذخیرہ کرنے کے لیے پوری لائبریری در کار ہوتی ہے وہ ایک چھوٹا سا کمپیوٹر آسانی سے اپنے اندر سمو لیتا ہے اور یہ معلومات مدتوں محفوظ رہتی ہے  نہ نہیں      دمیک لگےنہ موسم کا اثر ہو۔غرض کہ کمپیوٹر آج کےدورکی بہترین ایجاد ہے

۔ نظم و ضبط

تعارف،:

نظم و ضبط سے مراد ہے کہ ہم جو کام بھی کریں وہ سلیقے اور ترتیب سے کریں کام کرنے کے جو اصول ہیں۔ انہئن نہ توڑیں  اور نظم و ضبط کی مثال ایک تسبیح کی سی ہے ۔ ایک دھاگے میں تمام دانے پروئے ہوئے ہوتے ہیں کرتے ہیں۔ ہیں  اگر یہ داغ توڑ دیا جائے تو تمام دانے بکھر جائیں گے اس لیے نظم و ضبط اور انسانوں کو اس لیے سلیقہ  اور ترتیب دیتا ہے۔

نظم و ضبط کو اپنا لینے سے زندگی گزارنے کا سلیقہ ہے۔ اسے زندگی میں رات اور آسانی پیدا ہوتی ہے اگرچہ اس کو بھی کو اپنانے سے شروع میں کچھ وقت کچھ دقت ہو سکتی ہے۔ اور جب ہم اس کے عادی ہوجائیں اور پابندی ہماری عادت بن جائے تو بہت راحت ملتی ہے۔

نظم و ضبط کی اہمیت۔:

نظم و ضبط کے انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر ضروری ہے جس تک کوئی فرد نظم کو نہیں اپناتے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مگر جب وہ اس کا عادی ہو جائے تو پھر اسے آسانی اور آرام حاصل ہوگا۔ ہیلو جناب کیا درجہ ہمارے لیے مفید اگر جب نہ رہے تو کوئی کام ڈھنگ سے نہ ہو سکے گا۔

گھر میں نبضط  سے گھر جنت کا نمونہ بن جاتا ہے کلاس روم میں نظم و ضبط کے کام ہے بہت آسانیاں کرتا ہے اسی طرح سکول میں نظم و ضبط برقرار رہنے سے سکول کی ترقی اور بہتری کی رفتار بہت تیز ہو جاتی ہے۔ مذہب کی ضرورت اور مقام اور ہر موقع پر پیش آتی رہتی ہے۔ نظم و ضبط سے انسان کی زندگی میں خاص سریکوٹ ہوا جاتا ہے اور اسے کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔

کھیل میں نظم و ضبط ۔:

کھیل کے میدان میں بھی نظم و ضبط بہت ضروری ہے کھیل میں ہار جیت سے زیادہ ہم اہم بات یہ کے ضابطے کی پابندی ہے۔ اگر ان کھیل کے میدان میں ضبط کی پابندی نہ کریں خیر سے جو مقاصد حاصل کرنے ہے وہ حاصل نہیں ہو سکیں گے۔ اجتماعیت اور نظم کے فقدان سے پھیل میں شکست ہو جاتی ہے جبکہ کلی اور اجتماعی کھیل سے جیت لازمی مقدر بنتی ہے۔

فوجی نظم و ضبط۔؛

فوجی زندگی میں بھی نظم و ضبط کی اہمیت بیان کی متعدد نہیں۔ ایک سپاہی کے لیے نظم و ضبط کو توڑنا انتہائی خطرناک نقصاندہ ہوسکتا ہے اس میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ جنگ احد میں نظم و ضبط کی اخلاقی ورزی مسلمانوں کے لیے نقصان دے ثابت ہوئی اور مسلمان فتح شکست میں بدل گئی۔

کہانی لکھنا۔۔۔

بچوں کو کہانیاں سننے اور سنانے کا بہت شوق ہوتا ہے بچپن میں وادی ماں اور نانی اماں سے کہانیاں سننا بچوں کا معمول رہا اور جب یہ ذرا بڑے ہوئے تو رسالوں اور کتابوں میں لکھی کہانیوں کو بڑے شوق سے پڑھتے ہیں۔ بچوں کو جنہوں تو لے لو اور پریوں کی بے مقصد کہانیوں کے فریب میں نہیں آنا چاہیے بلکہ اسلامی طریقے سے انبیاء کرام کے سبق آموز قصے مسلمان سائنسدانوں کے حالات زندگی اور جدید ایجادات وغیرہ پر مشتمل کتب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ بہرحال بچوں کی اس فطری شوق کے پیش نظر انہیں زبان سکھانے میں کہانی سے بڑا کام لیا گیا ہے۔ کے بچوں میں پڑے ہوئے الفاظ محاورات ضرب المثال اور اسلوب بیان کے استعمال کا صحیح لکھا جائے چنانچہ ان میں بھی ایک سوال کہانی لکھنے کے متعلق ضرور دیا جاتا ہے۔ کبھی پانی کا حق دیا جاتا ہے کہ اس سے کہانی لکھیں کہیں کوئی اخلاقی سبق دیا جاتا ہے کہ ثابت کرنے کے لیے کوئی کہانی تحریر کریں اور مقابلے کے امتحانات میں امیدواروں پر تخلیقی صلاحیتوں کو جانچنے اور ان کی  افتاد طبع کا اندازہ لگانے کے لیے

اسلامی تعلیمات۔۔؛

اسلام کی تعلیمات میں مذہب کی بڑی اہمیت حاصل ہے مسلمان دن میں پانچ مرتبہ باجماعت نماز پڑھتے ہیں۔ اور امام کی اتباع میں رکوع اور سجدہ کرتے ہیں اسی طرح سے اطاعت امیر کا حکم بھی نظم و ضبط کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے

ہمیں چاہیے کہ ہم زندگی کے ہر شعبے میں نظام کو اپنایا اور اس کو اپنا شعار بنائیں گے انشاء اللہ تعالی یقینا ہماری زندگی رہا 

۔ حضرت محمد مصطفیﷺ

کی محمدﷺ   سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح قلم تیرے ہیں

اللہ تعالی نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر ہماری تربیت و اصلاح کے لئے بھیجے سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام آئے اور آخر میں دنیا کی ہدایت کے لئے تمام انسانوں اور تمام زمانوں کی رہنمائی کے لیے آنحضرتﷺ ا آئے۔ محمد ﷺ    کے بعد کوئی نبی آیا اور نہ آئے گا۔

پیدائش۔:

آپﷺ 12 ربیع الاول بمطابق  22اپریل571کو مکہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق عرب کے معزز ترین گرانے سے تھا۔ دادا نے آپ کا نام محمد رکھا۔ آپ کے والد ماجد کا نام حضرت عبداللہ اور والدہ ماجدہ کا نام حضرت حمنہ تھا۔ آپ ﷺ  کے والد آپ کی پیدائش سے پہلے وفات پا گئے ۔ آپ کے دادا کا نام حضرت عبداللہ مطلب تھا اور یہ مکئی کے بڑے سرداروں میں سے تھے۔

پرورش۔۔۔

مکہ کے رواج کے مطابق آپ کو پرورش کے لئے ایک دیہات میں بھیج دیا گیا۔ آپ ﷺ  کی پرورش حضرت علی معاویہ نے کی۔ آپ کی وجہ سے ان کا گھر خیروبرکت سے باہر گیا اور آپ پانچ سال تک دیہات میں حضرت علی معاویہ کے پاس رہے۔

بچپن۔۔۔

جب آپ کی عمر چھ سال کی ہوئی تو والدہ کا انتقال ہوگیا اور آپ کے دادا آپ کے سر پرست بنے۔ دادا نے آپ کی پرورش کی لیکن آپ کی عمر آٹھ سال کی ہوئی تو آپ کے دادا بھی وفات پا گئے اور وفات سے پہلے آپ کو چادرت ابوطالب کے سپرد کر گیا۔

آپ کا بچپن ہے ساتھ اس طرح اور باقی تھا آپ نے کبھی کھیل تماشا ہو اور بری باتوں میں حصہ نہیں لیا آپ کبھی کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں کرتے اور بچپن سے زیادہ زندگی گزارنے کے عادی تھے۔

جوانی؛

آپ کی جوانی بھی آپ کے بچپن کی طرح نہایت پاکیزہ اور صاف تھی آپ غریبوں کی مدد کرتے تھے اور مشکل میں دوسروں کے کام آتے تھے نیزابازی شمشیر زنی اور سواری سے مفید اور موجودہ کھیلوں میں حصہ لیتے۔

اور صادق اور امین۔۔۔

آپ محض سچ بولتے تھے اور بہت دیانتداری سے لوگوں کی امانتیں ہیں جانبداری سے ان کو واپس پہنچاتے تھ رسولُ اللّٰهﷺ  کی صداقت اور امانت کی وجہ سے مکہ کے لوگ آپ ﷺ  کی اور آمین کہہ کرپکارتے تھے۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح۔:

مکہ میں ایک مال دار بیوی رہتی تھی۔ ان کا نام حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ اور وہ تاروں کے لقب سے مشہور تھی۔ انہوں نے جب آپ ﷺ کی امانت و دیانت کے بارے میں سنا تو آپ کو اپنے کاروبار میں شرکت کی دعوت دی اور کہا کہ میرا مال دوسرے شہروں میں بھی جائیں تو دوسروں سے زیادہ نفرت دو گی۔  رسولُ ﷺنے پیشکش قبول کرلی اور ملک شام کی طرح سامان تجارت لے گئے آپ ﷺ  کو اس تجارت میں خوب فائدہ ہوا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا غلام ایسا بھی آپ کے ساتھ تھا اس نے بھی آپ کے کردار اور گفتار کے بے حد ترقی کی حرکتیں جلا نہ اس قدر متاثر ہوئے کہ شادی کا پیغام دے دیا آپ ﷺ نے یہ پیغام قبول کرلیا نکاح کے وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر چالیس برس تھی وہ حضور صلی اللہ کی عمر 25 برس تھی۔

نزول وحی۔؛

اگر ختیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد جب آپ کو مالیت باہر سے بے فکری ہوئی تو آپ نے زیادہ تر وقت اور فکر اور سوچ و بچار میں گزارنا شروع کر دیا آپ کی دن تنہائی میں گزار دیں۔ اس مقصد کے لیے آپ نے مکہ سے کچھ فاصلے پر ایک غار جس کا نام ہی رہا تھا میں زیادہ وقت گزارنا شروع کر دیا آپ اکثر کھجور اور پانی وغیرہ ساتھ لے جاتے اور کسی گہری سوچ میں کھوئے رہتے تھے  ایک دن غار حرا میں عبادت میں مشغول تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام پہلی وحی لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خدا کا پیغام آپ تک پہنچایا۔

اعلان نبوت۔:

پہلے پہل تو آپ نے صرف خاندان والوں کو اسلام کی دعوت دی لیکن بعد میں اللہ تعالی نے پیغام دیا کہ سب جگہ اسلام کا پیغام پھیلانے دو۔ تو آپﷺ نے قریش والوں کو اسلام کی دعوت دی۔

آپﷺ  نے کفار کو اسلام کی دعوت دی کہ ایک خدا کی عبادت کرو بتوں کی پوجا چھوڑ دو برا طریقہ زندگی ترک کر دو۔ اس پر لوگ آپ کے مخالف ہوگئے کیونکہ وہ اپنے اباواجداد کا مذہب چھوڑنے کے لئے ہرگز تیار نہیں تھے۔

ہجرت مدینہ۔:

کفار مکہ نے آپ پر ظلم و ستم کرنے شروع کر دیے جو شخص سلام قبول کرتا ہے اس کا جینا دوبھر کر دیتے جب کفار مکہ کے ظلم و ستم انتہا کو پہنچ گئی تو انہوں نے آپ کو قتل کرنے کے منصوبے بنانے شروع کر دیئے خدا کی طرف سے وحی نازل ہوئی کے آپ مدینہ ہجرت کرجائیں چنانچہ آپ حضرت ﷺ  ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مدینہ ہجرت کر گئے۔

مہاجرین اور انصار۔۔؛

مدینہ کے کچھ لوگ پہلے ہی اسلام قبول کر چکے تھے جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہ بھی ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو نے آپ کا خیرمقدم کیا اور آپ ﷺ  نے  مواخات کے ذریعے  مہاجرین و انصار کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا۔

فتوحات۔:

مدینہ منورہ میں اسلامی حکومت قائم ہوچکی تھی لیکن کفار مکہ نے وہاں بھی مسلمانوں کو چین سے نہ بیٹھنے دیا اب جہاد فرض ہو چکا تھا رسول اکرم کو کفار کے خلاف کئی جنگیں لڑنا پڑیں مثلا غزوہ بدر غزوہ خندق غزوہ خیبر وغیرہ میں حضور ﷺ نے دس ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہا کے ساتھ مکہ فتح کر لیا۔

وفات۔:

دس ہجری میں رسول اکرم نے ایک لاکھ اکرام کے ساتھ فریضہ حج ادا کیا اور اس موقع پر ایک تاریخی خطبہ دیا جسے حجۃ الوداع کہتے ہیں۔ اس خطبہ میں آپ نے اسلام کی اہم اور بنیادی تعلیمات بیان فرمائیں۔ حج سے واپسی پر آپ ﷺ  بخار میں مبتلا ہوگئے اور کئی روز تک بیمار رہے۔ آخر کار اسی بیماری میں پیر کے روز بارہ ربیع الاول 11 کو آپﷺ  انتقال فرمایا گیا

 

۔ علامہ محمداقبال

تعارف۔؛

ملت اسلامیہ کا ایسا کون سا فرض ہے جو اپنے سب سے بڑے مفکر شاعر علامہ اقبال سے واقف نہ ہو۔ اقبال وہ مرد درویش بنے جس نے خواب غفلت سوئی ہوئی قوم کو جھنجوڑا۔ وہ مرد قلندر جو خودی کا درس دیتا رہا جس کی حکیمانہ بصیرت اور ایمان افروز پیغام برصغیر سے نکل کر تمام دنیا میں پھیل گیا۔ یہ سیاسی مفکر کی فکری کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ جب ایک غلام قوم میر کارواں کے اشارے پر چلتی تو ایک عظیم مملکت وجود میں آگئی۔

خاندانی پس منظر۔۔

آپ کے والد کا نام شیخ نور محمد تا جو بڑے نیک دیانتدار عبادت گزار اور درویش صفت انسان تھے، آپ کے آباواجداد کشمیری پنڈت تھے جنہوں نے بعد میں اسلام قبول کرلیا۔

پیدائش ۔

علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔

تعلیم۔ *

آپ نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ ہی سے حاصل کی میٹرک کا امتحان پاس کر کے مشن کالج سیالکوٹ میں داخل ہوئے جہاں خوش قسمتی سے شمس العلما مولوی میر حسن جیسا شفیق اور رہبر کامل مل گیا۔ ان کی صحت میں اقبال نے عربی فارسی اردو میں خاص مہارت حاصل کر لی۔ آپ نے ایف اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا یہاں بھی خوش قسمتی سے انہیں ایک فاضل استاد پروفیسر آرنلڈ مل گیا۔ ان ہی کی صبح سے اقبال کا فلسفہ نہ کردار بنا اور دیے ہیں وہ تعلق ہے جس نے اردو کو ایک مفکر شاعر عطا کیا۔

علامہ اقبال نے گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے کیا اور حسب معمول وظیفہ حاصل کیا۔

1899 میں فلسفہ میں ایم اے کیا اور یونیورسٹی میں اول آنے پر تمغہ حاصل کیا کچھ عرصے تک گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفہ اور انگریزی کی تعلیم دیتے رہے۔

اعلی تعلیم۔:

علامہ اقبال کا دل اعلی تعلیم کے لیے بیتاب تھا چنانچہ اس  تشنگی کو بجھانے کے لیے انیس سو پانچ میں انگلینڈ تشریف لے گئے۔ اور کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفہ اخلاق کی ڈگری لی اور پھر جرمنی میں یونیورسٹی سے ڈاکٹر  آف فلاسفی کی ڈگری حاصل کی۔ انہی دنوں نے انہوں نے بیرسٹری کا امتحان بھی پاس کیا۔ اور عارضی طور پر لندن یونیورسٹی میں ڈاکٹر آرنلڈ کی جگہ عربی کے پروفیسر کے فرائض انجام دیتا ہے۔

وطن واپسی۔:

انیس سو آٹھ میں علامہ اقبال یورپ سے واپس وطن تشریف لائے۔

ملازمت۔:

یورپ سے واپسی پر گورنمنٹ کالج لاہور میں ملازم ہوگئے لیکن بہت جلد ملازمت کو خیر باد کہہ کر نکل شروع کر دی ہے سلسلہ 1934 تک جاری رہا۔

خطبات۔۔۔

انیس سو بانوے میں برطانیہ نے اقبال کو سر کا خطاب دیا اور مسلمان قوم نے ترجمان حقیقت شاعر مشرق اور حکیم الامت کے خطابات سے نوازا۔۔

سیاست میں حصہ۔۔۔

علامہ اقبال 1926 میں مجلس قانون ساز کی ممبر منتخب ہوئے 1930 میں آپ نے آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے العباد اجلاس میں اپنا تاریخی خطبہ دیا۔ جس میں پاکستان کا تصور پیش کیا اس لحاظ سے آپ کو پاکستان کا قومی شاعر ہونے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔

وفات۔:

عالم اسلام کا مرد خود آگاہ اور دنیائے علم و ادب کا یہ آفتاب جہاں تاب کی ریل 1931 کو ہمیشہ کے لئے اور ہوگیا۔ آپ کے جس تحقیقی کو شاہی مسجد لاہور کی سیر یو کے قریب سپرد خاک کیا گیا وفات کے وقت آپ نے یہ رباعی پڑھی۔

سرودِ رفتہ باز آید کہ نہ آید

سمےاز حجاز آید کہ ناید

آمد روز گار ایں فقیرے

وگردانائےرازآیدکہناآئد

تصانیف۔،، اقبال نے اپنے افکار کو شاعری صورت میں پیش کیا مگر ان کا انداز فکر ایک خاص حکیمانہ بصیرت کا حامل ہے۔ ان کے خیالات ایسے ہیں جنہیں فلسفہ کی تسبیح میں پرو دیا گیا اسلام کا تابناک ماضی ان کے پیش نظر تھا مسلمانوں کے عروج کا درخشاں باب ان کے سامنے تھا۔ انہوں نے مغرب کے مادہ پرستانہ نظریات کا اسلامی تعلیمات سے تقابل کیا۔ جدید نظریات کے طلسم کو بچشم خود دیکھا۔ یورپ کی کھوکھلی نمائش کو غور سے دیکھا تو فکری جوہر اپنے عروج کو پہنچ گیا۔  انہوں نے مسلمانوں کی زبوں حالی پر ایک مفکر کی حیثیت سے نظر ڈالی تو کھلے چاک ہوا۔ بچوں کے نام معلوم کریں کہ آپ کی یہ دستانی جا بجا ہے ان کے کلام میں مل جاتی ہیں

کبھی اے نوجوان مسلم تدبر بھی کیا تو نے

وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سر دارا ر

اگر وہ سچے عاشق رسول تھے ان کی شاعری مذہب اسلام سے وابستہ تھیں اور روئے زمین پر آج تک کسی نے ان کے کلام کو اتنی شہرت نصیب نہیں ہوئی جس قدر اقبال کے کلام کو۔

شاعرانہ عظمت۔‘”

اقبال آسمان شعر و سخن کا درخشندہ آفتاب بزم اردو کا صدر نشیں اور سرتاج ہے۔ وہ دنیا کے شہر کاشغر تھے اس کے اشعار موتیوں کی طرح ہر زمانے میں درخشاں یو تب ہی پوری ملت اس کی آواز پر ہمہ تن گوشن تھی۔

۔ قائد اعظم محمد علی جناح۔:

ہزاروں سال نرگس اپنی بینوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیداور پیدا

عمر ہا در کعبہ بت خانہ می نالد حیات

تاز بزم عشق یک دانہ راز آید بروں

تعارف۔:

کون جانتا تھا کہ 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں پیدا ہونے والا بچہ جبرواستبداد آر غلامی مقہوری لاچاری اور بے بس میں مبتلا انسانوں کے لئے سورہ اسرا فیل گا۔

غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے لوگوں میں اتنی قوت آ جائے گی کہ وہ تنکوں سے اپنے کونسل تعمیر کریں گے۔

بلیدہ ہے زمین وطن کی نمود میں وہ

مظہر ہے مثل شعلہ ہمارے لہو میں وہ

محمد علی جناح کے والد کا نام جناب پوچھا تھا جو کاٹھیاواڑ کے رہنے والے تھے وہ کراچی میں چمڑے کا کاروبار کرتے تھے۔

ابتدائی تعلیم۔:

آپ نے ابتدائی تعلیم سندھ مدرسہ الاسلام میں پائی۔ سولہ سال کی عمر میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ شروع سے ہی بڑے محنتی تھے رات کو دیر تک پڑھتے رہتے تھے۔

اعلی تعلیم۔؛

شکریہ میٹرک کے امتحان کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گیا۔ وہاں مشہور درگاہ لنکن ان میں داخلہ لیا اور بیس سال کی عمر میں برسڑی کا امتحان پاس کیا۔

وطن واپسی۔:

1886 میں آپ تمام تشریف لے آپ کے گھریلو حالات بہتر نہ تھے والدہ کا انتقال ہوچکا ہوتا اور والد کے کاروبار میں زبردست نقصان ہو چکا تھا ان کی مالی حالت بگڑگئی تھی۔ محمد علی جناح نے ان نامساعد حالات کا بڑے حوصلہ اور جرات سے مقابلہ کیا۔

وکالت۔:

آپ نے کراچی میں وکالت شروع کی لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ اس کے بعد آپ بمبئی چلے گئے ابتدائی تین سالوں میں آپ کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا  میری آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی آپ نے بڑی محنت اور خلوص سے کام کیا۔ لیکن آپ کی طبیعت ملازمت کی پابندی برداشت نہ کر سکی اور ملازمت کو ترک کر کے کاروبار وقت اختیار کر لی ۔  چند ہی ماں میں آپ کا شمار چوٹی کے وکلاء میں ہونے لگا

سیاست میں حصہ۔؛

آپ کی طبیعت کا رجحان سیاست کی طرف تھا اس وقت ہندوستان میں کانگریس واحد سیاسی جماعت تھی اس لیے انیس سو میں کانگریس میں شامل ہو گئے۔ ابتداء میں آپ ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے آپ کا خیال تھا کہ برصغیر کی آزادی کے حصول کے لیے ہندو مسلم اتحاد ضروری ہے۔ آپ کی کوششوں سے انیس سو سولہ میں مساکین لکھنو کا معاہدہ طے پایا۔ جس میں کانگریس نے مسلمانوں کے کئی مطالبات تسلیم کر لیے تھے بمبئی کے لوگوں نے آپ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے جناحال تمیر کیا آپ کافی عرصے تک کانگریس اور مسلم لیگ دونوں جماعتوں سے وابستہ رہے۔

مسلم لیگ میں شمولیت۔:

جلدی آپ نے محسوس کیا کہ کانگریس صرف ہندوؤں کی جماعت ہے اور اسے مسلمانوں کے مفاد سے کوئی سروکار نہیں لہٰذا آپ نے کانگریس کو خیرباد کہا اور مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔

مسلم لیگ کی تنظیم نو۔۔

اب آپ نے اپنی تمام صلاحیتیں مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور آزادی کے لیے وقف کر دین۔ آپ نے مسلم لیگ کی تنظیم نوکی۔ اس میں با اثر مسلمانوں کو شامل کیا آپ نے مسلم لیگ کو ایک باعمل سیاسی جماعت بنایا آپ نے کانگریس کے خلاف آواز اٹھائی۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک جھنڈے تلے جمع کیا آپ کی ولولہ انگیز قیادت میں مسلم لیگ جلدی مسلمان کی واحد نمائندہ جماعت بن گئی۔

چودہ نکات۔:

انیس سو اٹھاسی میں کانگریس نے نئی رپورٹ پیش کی اس میں مسلمانوں کے مفاد کو سخت نقصان پہنچایا گیا۔ جس کی صدارت قائد اعظم نے کی مساکین لکھنو پر پانی پھیر دیا گیا اس وقت مسلمانوں کو سخت مایوسی ہوئی۔ اس کا جواب دینے کے لیے قائداعظم محمد علی جناح نے اپنے مشہور چودہ نکات پیش کیے جو دراصل مسلمانوں کے مطالبہ کی عکاسی کرتے تھے اور آئندہ کی جدوجہد کے لیے یہ نقاد بنیاد بن گئے۔

قرارداد پاکستان۔؛؛

22 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس ہوا جس کی صدارت قائد اعظم نے کی۔ مولانا فضل الحق شیر بنگال نے ایک دار پیش کی جس کی تاکید دیگر مسلم لیگی ارکان نے کی اور مسلم لیگ نے یہ کردار منظور کی۔ اس کردار کو قرارداد پاکستان کہتے ہیں اس میں مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ اسلامی ریاست کا مطالبہ کیا۔ قائداعظم میں اسلامی ریاست کے قیام کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔

کیا میں پاکستان۔۔۔

آپ نے خواب دیکھا اور بے عمل قوم میں نئی روح پھونک دی باطل نے مخالفت کے گھیرا حاصل کرنے کی کوشش کی مگر خود ہی خشخشاش کی طرح بہہ گیا۔ آپ کی ولولہ انگیز قیادت میں 14 اگست 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آگیا۔

پاکستان کے پہلے گورنر جنرل ۔:

قائد اعظم پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے۔ اس وقت پاکستان مشکلات میں گرا ہوا تھا آپ نے قوم کو حوصلہ دیا اور کہا کہ تم ایک عظیم قوم ہو تمہارا ماضی شاندار روایات سے پر ہے دنیا کی کوئی طاقت تمہیں مغلوب نہیں کر سکتی۔

وفات۔،،

آپ نے دن رات محنت کی جس کی وجہ سے آپ کی صحت خراب ہوگئی بالآخر 11 ستمبر 1948 کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم

تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے

پاکستان کا قیام اور محنت کی مثال۔۔؛

کیا میں پاکستان میں محنت کی ایک شاندار مثال ہے قائد اعظم اور مسلم لیگ کے دوسرے رہنماؤں نے دن رات محنت کی اور دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ ایک قوم کہنے والے ہندو اور انگریز دو قومی نظریے کو مان گئے اور علامہ اقبال کا 

۔ آبادی اور  آلودگی

یوں جو دنیا کی آبادی بڑھتی جا رہی ہے وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں اور بھوک و افلاس میں اضافہ  ہوتا جا رہا ہے لیکن آج کے اس مشینی دور میں سب سے بڑا مسئلہ فضائی اور زمینی آلودگی کا ہے کچی سڑکوں پر دعا اور دھول کی وجہ سے کھانسی اور گلے کی بیماریوں کے حملے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اسے ایسے ہی سگریٹ کا دھواں پھل گلے اور حلق کے سرطان کا سبب بنتا ہے۔

شہروں میں آلودگی۔:

بڑے شہروں میں فیکٹریوں ملوں اور کارخانوں کا دھواں اور غلاظت نہ صرف دا کو گندہ کرتے ہیں بلکہ طرح طرح کی بیماریوں کا موجب بنتے ہیں ٹریفک کا شور و اور رش انسان کے اعصاب پر اثر انداز ہوتے ہیں جس کی وجہ سے نکاح کمزوری اور تناؤ کا شکار ہوئے بغیر انسان نہیں رہ سکتا ہیں

گاؤں کی آلودگی۔:

گاؤں کے لوگ اس لحاظ سے بہتر ہے کہ شہروں کے شور و غل وہ گردوغبار زہریلی گیسوں گندے پانی گندی فضا اور گندے ماحول سے بچے رہتے ہیں جہاں ڈیزل پٹرول اور مٹی کے تیل کا دھواں بھی نہیں ہوتا اور فیکٹریوں میں بھی نہیں ملتی گاؤں کی خوبصورت صدا محلہ چلو دی سے پاک صاف ہوتی ہے لیکن جانوروں کا  فضا ماحولیاتی آلودگی سے پاک صاف ہوتی ہے لیکن روک افضل کچی اور گندی نالی یا جوڑوں کی غلاظت کی کچی گلیوں اور سڑکوں کی دھولنا کے پانی اور صحت مند کا فقدان آلودگی کا سبب بنتا ہے۔۔

بین الاقوامی مسئلہ۔:

آبادی اور آلودگی سے ہمارا ہی نہیں پوری دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اس کے لیے ہر حکومت نے ادارہ تحفظ ماحول بھی بنایا ہے۔ جو عوام کی مدد کے لیے کافی کام کرتا ہے لیکن عوام کا بھی فرض ہے کہ اپنے گھر شہر اور ملک کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے گندگی سے پرہیز کریں۔

آلودگی اور ہمارے فرائض۔:

ملک کو فضائی اور زمینی آلودگی سے پاک کرنے کے لئے گھروں کے سامنے کرکٹ نہ پھینکے گلی محلے میں فاضل اشیاء نہ تھی اور نہ ہی گھر کی غلاظت گلی میں ڈالے۔ گلی میڈیسن بین بنائے اور اسی میں کرکٹ وغیرہ ڈالے نالیوں کو صاف رکھیں تاکہ مچھر گندگی اور بدبو نہ پھیلے۔ اپنے سکولوں کو صاف ستھرا رکھیں پھولوں اور پودوں کی تیاریاں بنائے اور سجائے گھروں تعلیمی اداروں اور دفاتر میں درخت لگائے پینے کا پانی ابال کر پینا فالتو پانی ادھر نکلے۔ زیادہ سے زیادہ پارک بنائے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو سڑکوں پر لائیں اندرون شہر ٹری کارخانہ اور مال وغیرہ نہ لگائیں شعور سے پرہیز کرے ہارن بے مقصد نہ بجائے ریڈیو ٹی وی کی آواز اتنی رکھیں جو آپ کے کمرے تک محدود رہے روزانہ نہار پاک صاف رکھے مذہب اور دین کی طرف رغبت پیدا کرے اور روحانی جذبہ کو اجاگر کریں۔۔ 

چڑیا گھر کی سیر۔:

پروگرام:

پچھلی اتوار کو چڑیا گھر کا پروگرام بنا امیر علی نے کئی دنوں سے ہاتھی اور شیر دیکھنے کی فرمائش کر رکھی تھیں ان کا اصرار ہر روز بڑھتا جا رہا تھا۔ آخر ہفتے کی شام ابا جان ہمیں چڑیا گھر لے جانے کے لیے رضا مند ہوئے اتوار کی صبح چڑیا گھر جانے کا پروگرام بنا اباجان کو آج دفتر سے چھٹی تھی

گھر سے روانگی۔۔:

ہم سب بہن بھائی سب ہی چڑیا گھر دیکھنے کے لئے تیار ہو گئی ابا جان نے ٹیکسی کا بندوبست کیا آدھے گھنٹے کے بعد ہم چڑیا گھر کے دروازے پر تھے۔

چڑیا گھر میں داخلہ۔:

اباجان نے ہمارے لیے ٹکٹ  لئے اور ہم ایک بڑے گیٹ سے چڑیا گھر میں داخل ہوئے یہ گڑیا گھر وسیع و عریض رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔

جانوروں کا نظارہ۔:

ہم نے کھلے میدان میں ہیرو کو توڑتے دیکھا میری چھوٹی بہن ہے لوگوں کو دیکھ کر تالیاں بجانے لگی ہے لوگوں کے ساتھ دوسرے حصے میں بارہ سنگھا آرام سے چل پھر رہا تھا دوکوہانوں کا اوٹ سب کی توجہ کا مرکز بناہوا تھا۔ کھلے میدان میں  خراماں خراماں چل رہا تھا پہاڑی بکر یاں بہت خوبصورت تھی ان کے جسم پر بال بہت ملائیں اور پیارے لگ رہے تھے۔ چنکارا ہرن ککلاریاں بھرتا ہوا حسین لگ رہا تھا۔ جنگلی بھینس یا آسٹریلوی بلے اور آسٹریلیا کی گائے دے کر ہم بہت خوش ہوئے ذرا آگے چلنے کے بعد زندگی برا ہماری توجہ کا مذکر بن گیا۔ ایک طرف صرف اپنی گردن اٹھائے ایک درخت کے نیچے آرام کر رہا تھا۔

درندوں کا نظارہ۔:

شیر کے پنجرے کے گرد زیادہ ہجوم نہ تھا شہر بہت خوف ناک نظر آتا ہے اس کی گردن پر لمبے لمبے بال تھے کمر پتلی اور آنکھیں انگاروں کی طرح  تھی بچے دیکھ کر ہی سمجھ جاتے تھے تیز اور نوکیلے پنجے اور خار دار تھے شیر کی شکل میں ڈراونی تھی ابھی ہم دیکھ ہی رہے تھے شیر دار نے لگانی ہمارا خوف سے ہمارے ساتھ چمٹ گئی  ریچھ نیچے گہرائی میں تھے بہت خطرناک دکھائی دے رہے تھے انہیں دیکھ کر سارے بدن میں خوف کی لہر دوڑ گئی چیتے بھی دکھائی دیتے تھے جیتے رنگ برنگے تھے یہ بڑی خوفناک  آواز نکالتے تھے بھیڑیے اور لنگر بھگڑ پنجروں میں بند تھے کھائی دوسرے جنگلی جانور بھی آہنی سلاخوں کے پیچھے تھے بچوں پر ایک خوفناک فی طاری ہوگی اس لئے ہم نے یہاں زیادہ دیر ٹھہرنا مناسب نہ سمجھا۔

بندروں کی مستحق خیز حرکات۔:

سب سے زیادہ پرلطف نظاروں بندروں کا تھا ان کے پنجرے کے گرد بچوں کا ہجوم تھا بندر شرارتیں کر رہے تھے بچے ان کی طرف پھینک رہے تھے جسے وہ اٹھا کر کھا رہے تھے بندر عجیب و غریب حرکات کرتے ہوئے چلتے کرتے آواز نکالتے تھے۔ بچے انہیں دیکھ کر بہت خوش ہو رہے تھے بچے ہاتھ بڑھا کر کھانے کی کوئی چیز نہیں دیتی تو فورا پکڑ کر پکڑ لیتے یہ بڑا دلکش منظر تھا اباجان کہنے لگے آگے چلتے ہیں۔

آپ بھی پرندے۔:

ایک مصنوعی ندی کے کنارے ہم نے ابھی پرندوں کو دیکھا کوئی چھوٹا اور کوئی بڑا یہ پانی میں چھوٹی چھوٹی مچھلی پکڑنے تھے اور نام دے دیں پانی میں بہت حسین لگ رہے تھے بلکہ ایک ٹانگ پر کھڑا تھا۔۔

پرندے۔:

آپ دوپہر ہو چکی تھی ہم سیر کرتے ہوئے اپنی دو کٹنگ کے پاس پہنچے بے شمار اور انواع و اقسام کے پرندے موجود تھے کہیں روسی اور افریقی طوطے تھے اور کہیں  انڈونیشیا کے کبوتر خوشنما خوبصورت چوڑیوں کی کئی اقسام دیکھنے میں آئے کنج بازار میں بیٹھے عجیب و غریب لگ رہے تھے کچھ بندے ایسے تھے جو ہم نے کبھی نہیں دیکھے تھے کچھ پرندے بہت چھوٹے تھے اور کچھ بہت بڑے بعد کی چونچ بہت بڑی تھی۔

مور کا نظارہ۔:

پرندوں کے نظارہ کے بعد ہم نے مور دیکھا یہ خوبصورت پر پھیلائے ہوئے قوس قزح کے رنگ پیچ کر رہا تھا میری بہنیں سے دیکھ کر بہت  مخزونہ وی میرا چھوٹا بھائی کہنے لگا ابا جان آپ مجھے ایک مور لے دیجیئے اس پر ہم  سب کھلکھلا کر ہنسے گی مور بڑی آزادی سے گھوم رہا تھا اس کے پر بہت خوش نما لگ رہے تھے۔

ہاتھی کی سواری۔:

ایک جگہ ہم نے پہاڑ جیسا اونچا جانور دیکھا نہیں اور پیسے دے کر گئے ہاتھ میں تھا اس کی ٹانگیں بالکل تون کی طرح کی بڑے دانتوں کے درمیان سونا تھا یہ کھلے میدان میں کھڑا  چارہ کھا رہا تھا۔ ہم سب بہن بھائیوں نے اس پر سواری کی ایسا لگتا ہے کہ ہم مکان کی چھت پر بیٹھے تھے ہاتھی مہاوت کے اشارے پر لوگوں کو سلام کرتا تھا اور بچے خوش ہو کر اس کی طرف سے اور لوٹتے تھے۔

گھر کی واپسی۔:

چڑیا گھر کی سیر کرتے ہوئے ہم پانچ گھنٹے گزر چکے تھے ہم سب تھک چکے تھے ہم نے واپس جانے کا ارادہ کیا جائے گھر سے نکل کر ٹیکسی کے ذریعہ پہنچے ہمارا دن بہت  گرل وتھ گزارا۔۔

۔ محنت کی برکتیں محنت کی عظمتیں۔:

مفہوم و اہمیت۔:

محنت ہی سے انسان کی عزت و توقیر میں اضافہ ہوتا ہے انسان کو بلند مقام پر فائز کرتی ہے دنیا کی تمام چہل پہل اور گہماگہمی محنت کا نتیجہ ہے۔ آج انسان جو مریخ سے بھی آگے کم از کم آمدنی ڈال رہا ہے محنت کے بل بوتے پر ہی اس مقام تک پہنچ گیا ہے۔

محنت کے بارے میں ارشاد خداوندی۔:

محنت کی قدر خداوند کریم کے نزدیک بہت زیادہ ہے اللہ تعالی نے محنت پر بہت زور دیا ہے ارشاد کریم فرمایا۔

ترجمہ،،،،

انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔

ترجمہ۔،،،

بے شک خدا اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا جو خود اپنی حالت نہیں بدلتی۔۔

محنت کے بارے میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم۔:

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا محنت سے کمانے والا اللہ کا دوست ہے۔

حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم صرف عالم کی پوری زندگی محنت اور امن کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے اسلام نے پوری زندگی محنت و مشقت سے کام لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ کی سربلندی کے لئے گھر بار چھوڑا بادل سے ٹکر لی ہے سب محنت اور عمل سے کیا آپ صلی اللہ کی زندگی میں تبدیلی جدوجہد اور سعی مسلسل کو اختیار فرمایا۔ جنگےبدر ہو یا جنگ احد جنگ خیبر ہو یا جنگ خندق ہر مقام پر اس لئے محنت اور جدوجہد کا میں پیٹ پر پتھر باندھ کر کھدائی میں  حصہ لیا۔ عبادت کا وقت ہے تو خدا کے حضور رات رات بھر کھڑے ہو کر بات کی آپ صل اللہ تعالی پر مکمل بھروسہ تھا لیکن آپ نے پوری زندگی میں محنت و عمل کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ حضور صل وسلم نے دس برس کے دوران 26 بغاوت میں بنفس نفیس شرکت فرمائی اور56 سارا یا  جنگی مہمات روانہ فرمائیں دس برس میں 82 جنگیں لڑیں ہیں فرشتے مدد کے لئے اتنے فرشتے صرف مدد کرتے ہیں اورمددا نہی کی ہوتی ہے۔ جو مقابلہ کے لیے کھڑے ہو جائیں اگر کوئی گروہ گھروں یا افسانوں میں بیٹھ کر دعا پر اتفاق کرے تو فرشتے بھی محض آمین کہنے پر اکتفا کرتے ہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان  ہیں۔

،، در دعای نصرت امین کی تیغ او

نصرت کی دعا مانگنے کے ساتھ ہی لڑنے کے لیے تلوار میان سے باہر نکال لیتے تھے ادھر وسلم سے بڑھ کر مستحاب علاوہ کوئی تھا نہ ہو سکتا ہے اور نہ ہوگا۔ آپ کے اہل بیت بھی آپ سلم کی سنت پر عمل کرتے ہیں اساتذہ رضی اللہ تعالی عنہ آپ اپنا کام خود کرتے ان کے ہاتھوں پر نشان پڑ گئے تھے لیکن محنت کو بھی کبھی آر نہیں سمجھا۔

صحابہ کرام کی زندگی۔:

صحابہ کرام کی زندگی محنت کا بہترین نمونہ تھی وہ محبوبہ سم عمل تھے انہوں نے محنت مشقت کا عملی نمونہ دکھایا۔ ذرا غور کیجئے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کس قدر عملی زندگی گزارتے کیوں کہ ان کے اندر ایمان کی طاقت یعنی یقین کا معمول تھا جس کی وجہ سے وہ محنت پر یقین رکھتے تھے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے بڑی جانثار رانا تقریر  کیں۔ پھر حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کی تائید کرتے ہوئے کہا یارسول اللہ علیہ وسلم جس کا مقابلہ تعالی نے آپ کو کب سے سرانجام دے ہم سب آپ کے ساتھ ہیں اللہ ہم بنی اسرائیل کی طرح یہ نہیں کہیں گے تم اور تمہارا رب جا کر لڑو۔ ہم یہیں بیٹھے ہیں ہمیں ہیں ہم یہ کہیں گے کہ اٹھے اپنے رب کی مدد سے قتال کے لئے ہم آپ سے سلم کے ساتھ تعاون کریں گے اور آپ کے دائیں اور بائیں اور  آگے پیچھے لڑیں گے۔

حضور پاک صل وسلم کا چہرہ مبارک پر تسلی سے چمک اٹھا در سعد بن معاذ ہر ذی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے آپ صل وسلم کو پیغام حق دے کر بھیجا ہے اگرآپ وسلم ہمیں سمندر میں کود پڑنے کا حکم دیں گے تو ہم اسی وقت سمندر میں کود پڑیں گے۔ ہم میں سے کوئی ایک بھی پیچھے نہیں رہے گا ہم دشمنوں کا مقابلہ کرنے سے جی نہیں چرا تے ہم لڑائی کے وقت جم کر لڑتے ہیں اور ڈٹ کر دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں۔

عظیم انسانوں کا شیوہ

دنیا میں جتنے بھی عظیم انسان گزرے ہیں انہوں نے زندگی میں سخت محنت زبردست جدوجہد کی ہے ان عظیم انسانوں کے شمار سختیاں برداشت کیں اور پھر جا کر اس قابل ہو گئے کہ عظمت و عزت کے پرچم کو چوس کے اور نام اور ہوسکے حالی لے اس لئے کہا تھا۔

نہال اس گلستان میں جتنے بڑھے  ہیں۔

ہمیشہ وہ نیچے سے اوپر چڑھے ہیں۔

دنیا میں جتنی ایجادات ہوئی ہے یہ سب محنت شاقہ اور زبردست جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

تاریخ شہادات،،

 

بنی نوع انسان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ دنیا میں وہی قومیں شروع ہوئی ہے جنہوں نے محنت کو اپنا شعار بنایا ہے وہ سلمان قوم جب تک محنت کی صورتحال بنی رہیں گی سونیا اور مرغیوں کی ترقی سب بھی محنت کی عملی تفسیر ہیں۔۔

محنت سے جی چرانے کی سزا۔۔

جب کوئی کام آرام طلبی اور عیش و نشاط کے چکر میں پڑھ کر بے عملی کا شکار ہوتی ہے وہ ذلیل و سوار ہو جاتی ہے اس کی حفاظت رہتی ہے ورنہ عظمت۔ اب ان شان و شوکت بڑھائیں اور تفوق سب سے ختم ہو جاتا ہے علامہ اقبال نے فرمایا۔

آپ تجھ کو بتاؤں میں تقدیر امم کیا ہے۔

شمشیر و سنان اول طاؤس و رباب آخر۔

مسلمان قوم جب بے عملی اور سستی کا شکار ہوئیں مغرب ہوگی برصغیر میں مسلمانوں نے ایک ہزار سال حکومت کی ہے لیکن جب اس میں محنت کی عادت ختم ہوئی اور کاہلی اور سستی کا شکار ہوئیں تو پھر غلامی میں جکڑی گئی ہیں۔ بے عمل قومی بے غیرت ہو جاتی ہیں ذلت اور رسوائی ان کا مقدر بن جاتی ہے بقول شاعر۔

بن محنت کچھ ہاتھ نہ آئے ہاتھ آئے ناداری۔

جس نے کی محنت اس نے پائی سرداری۔۔

حب وطن۔:

وطن۔:

متین اس خطہ زمین کو کہتے ہیں جہاں انسان پیدا ہوتا ہے، کھیلتا ہے، جوان ہوتا ہے، جہاں اس کے والدین عزیز و اقارب اور دوست احباب بستے ہیں۔

حب وطن کا مفہوم:

انسان جس سرزمین پر نشونما پاتا ہے اس میں بسنے والے لوگوں سے اس کے در و دیوار سے اور اس کی فضاؤں سے ایک خاص قسم کی جذباتی وابستگی  پیدا ہو جاتی ہے اسے ہوں بے وطن کہتے ہیں۔

اہمیت۔:

وطن سے محبت ایک فطری امر ہے حیوانات تک اپنے ٹھکانوں سے محبت کرتے ہیں اور اس کی محبت میں جان لڑا دیتے ہیں جب وطن کی ساری بل وطن میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔ شیخ سعدی کہتے ہیں کہ وطن کا کانٹا بھی سمبل ورحیان زیادہ عزیز ہوتا ہے۔

حب وطن از ملک سلیمان خوش۔تر۔

خار وطن از سنبل و ریحان خوش۔تر

حضرت یوسف علیہ السلام جو مصر میں حکومت کرتے تھے کنعان کے بھکاری کو بھی اس حکومت سے بہتر خیال کرتے تھےکیونکہ کنعان  ان کا وطن تھا اور حاکم ہونے کے باوجود وطن کی خوشبو اور محبت مصر میں نہ تھی۔

حب وطن کی ارفع صورت۔:

حب وطن کی اعلیٰ ورافع صورت یہ ہے کے وطن کے ساتھ ہماری محبت اس وجہ سے ہو کہ اس میں اہل وطن بستے ہیں یہ ایسے افراد کا گھر ہے جن کے جذبات خیالات احساسات اور عزائم وہی ہیں جو ہمارے ہیں۔ اگر اس جذبے کو صحیح لا کی قدروں پر استوار کیا جائے تو یہ وابستگی وطن کی حدوں کو پھاند کر تو ہے انسانی کی محبت کا روپ دھار لیتی ہے۔

حب الوطن کا محدود تصور۔:

او بے وطن کے محدود اور نہایت پست تصور یہ ہے کہ انسان وطن سے دور مگر اپنی بیوی بچوں کو اپنے عزیز و اقارب اور اپنے  شہرکی یاد میں مگن  رہے۔

حب الوطن کا تقاضہ۔؛

حب الوطن کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کو اپنے اہل وطن کے دکھ درد کا احساس ہو اور ان کی خوشی اور غم میں برابر کا شریک ہوں۔ اپنے مال و دولت اور علم و ہنر سے اہل وطن کی خدمت کرے تعمیر وطن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے۔ اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں کسی قسم کی غفلت اور کوتاہی نہ کرے۔ اپنے دائرہ عمل میں ملک و قوم کی بہتری کے لیے ہر وقت شعر ہے صحیح معنوں میں محب وطن وہ ہے جس میں دیانت داری کر شناسی ہمدردی اور قربانی کا جذبہ ہو۔

محب وطن ۔۔

جو لوگ وطن کی بہتری کے لیے کام کرتے ہیں اور وطن کی آزادی کے لیے اپنی جان نثار کر دیتے ہیں وہ قوم کے محسن ہوتے ہیں۔ یہی عظیم محب وطن ہے ان کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے خود ہماری تاریخ میں ایسے افراد کو بقائے دوام حاصل ہے۔ سراج الدولہ علی برادران علامہ اقبال قائد اعظم محمد علی جناح عظیم محب وطن تھے۔

حب الوطن کا غلط تصور۔:

ہمارے وطن کا جذبہ قومی ترقی کے لئے بہت بڑی نعمت ہے لیکن اگر اس کی بنیاد میں دوسری اخلاقی اقدار نہ ہو تو یہ جذبہ وطن پرستی کی ایک محدود شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اور جغرافیائی حدود میں مقید ہو کر ایک پست کشمکش کا روپ دھار لیتا ہے پھر دوسرے ملکوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔ اس قسم کے وطن رنگ نسل زبان بنیاد پر تشکیل پاتے ہیں اور بنی نوع انسان کو میں بانٹ دیتے ہیں۔ انسانوں کے درمیان مصنوعی تفریح کی دیواریں کھڑی کر دی جاتی ہیں اس طرح یہ جذبہ کمزور کو دبانے کا باعث بنتا ہے۔

وطن کا مغربی تصور۔؛

وطن کا تصور ایک محدود کا ہے جہاں ایک ہی نسل جائے کی زبان بولنے والے افراد کا اجتماع ہو وطن کا یہ تصور بہت سی خرابیوں کو جنم دیتا ہے چھوٹے اور کمزور ممالک اور سیاسی ذہنی ابتری پھیل آئی جاتی ہے۔ ان کے مذہب معاشی روایات اور ادب پر حملے کیے جاتے ہیں۔

اسلام مغربی تصور وطن کو نہیں مانتا وہ کہتا ہے

ہر ملک ہر ملک ملک ماست کے او ملک خدائے است

اسلام نسبی اور نسلی فضیلت کا قلع قمع کرتا ہے اسلام کا تصور انسانیت کا مفہوم پیش کرتا ہے اسلام دنیا کے تمام مسلمانوں کو ایک خاندان کی داد دیتا ہے۔

 

۔ مطالعہ کتب

ہم نشینی اگر کتاب سے ہو

اس سے بہتر کوئی رفیق نہیں

مفہوم۔:

مطالعہ کتب ایک بہترین عادت ہے اس سے کردار کی تشکیل ہوتی ہے اچھی کتابیں قوموں کی زندگی میں انقلاب پیدا کرتی ہیں۔ موجودہ دور میں مطالعہ کتب کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے تحقیقات اور نئی نئی ان کے  انکشافات کا زمانہ ہے۔

کتاب کی اہمیت۔؛

کتاب معلم اخلاق شفیق احمد ہمدرد دوست اور رہبر حیات ہوتی ہے یہ ایک نہایت قیمتی خزانہ ہے۔ جو جواہرات سے زیادہ گراں قدر ہے مطالعہ کتب سے انسان دنیا کے نشیب و فراز سے آگاہ ہوتا ہے۔

کتاب بہترین رفیق۔:

کتاب انسان کی بہترین رفیق اور سچی امداد ہوتی ہے تنہائی میں کتاب مونث اور غمگسار ہوتی ہے اس کے متعلق یاد میں عظیم انسانوں کے کارناموں سے آگاہ ہوتا ہے۔ سائنسدانوں اور مذہبی رہنماؤں کے خیالات سے استفادہ اٹھاتا ہے۔

تاریخ سے آگاہی۔

کتاب میں تاریخ سے روشناس کراتی ہیں یہ ہمیں اپنے آباؤ اجداد کے شاندار ماضی اور بہترین کارناموں سے آگاہ کرتی ہیں ان کی شان و شوکت بیان کرتی ہیں۔

تعمیر سیرت۔۔:

کے مطالعہ کتب سے انسان کی سیرت کی تکمیل ہوتی ہے اچھی کتاب کردار سازی کا کام کرتی ہے۔ انسان کو مکمل کرکے ایک بہترین فرد بنا دیتی ہے انسان کو کتاب کے ذریعہ اپنے آباؤ اجداد کے اچھے اچھے کارناموں سے آگاہ ہوتا ہے۔ عظیم لوگوں کے کارنامے پڑھ کر اس میں بہتری خوبیاں جنم لیتی ہیں بزرگان دین کے اقوال اور ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتا ہے۔ خدا کے برگزیدہ بندوں کا پیغام کتابوں سے پڑھ کر اپنی زندگی ان کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔

ذہنی انقلاب۔:

کتابوں کی بدولت قوموں کی تاریخ بدل جاتی ہے بڑی بڑی سلطنی لرزہ براندم ہو جاتی ہیں انقلابی کتابیں ذہنی انقلاب کا باعث بنتی ہیں۔ علامہ اقبال کی شاعری نے مردہ قومی آزادی کی روح۔ پھونک دی انہوں نے غلام ذہنوں کو بدل ڈالا۔ شیخ سعدی حافظ شیرازی اور مولانا روم نے بے شمار دینی انقلاب برپا کیے۔  قرآن مجید جو اللہ تعالی کی الہامی کتاب ہے اس نے پوری بنی نوح کی نجات کا سامان پیدا کیا۔ اس کے مطالعے سے لاکھوں انسان صراط مستقیم پر چل پڑے اتنا کسی اور کتاب میں نہیں کیا پوری انسانیت کی نجات کا طریقہ وضاحت سے بیان کر دیا۔

مختلف علوم سے آگاہی۔؛

مطالعہ کتب سے انسان بہت کچھ سیکھتا ہے برسوں کی تحقیقات کتابوں کے اندر موجود ہوتی ہے قوانین فطرت سے آگاہ ہیں اور مختلف لوگوں کے نظریات کتابوں میں محفوظ ہوتے ہیں۔ تجارت سنت بزنس سیاست سائنس غرض یہ زندگی کے تمام شعبوں میں علوم کتاب کی مدد حاصل کی جاتی ہے۔

کتاب  بے لوث ساتھی۔:

کتاب ایک ایسا بلوچ ساتھی ہے جو دن رات انسان کا ساتھ دیتا ہے۔ سفر یا حضر کا رویا پردیس ہارون کتاب خدمت کے لیے حاضر ہوتی ہے کوئی معاوضہ اور صلح نہیں مانتی۔ آدمی آتا جاتا ہے کتاب نہیں آتی جب زمانہ منہ پھیر لیتا ہے عزیزواقارب ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اس وقت کتاب ساتھ دیتی ہے۔

روحانی مسرت۔؛

عمدہ اور پاکیزہ کتاب طبیعت میں تازگی اور شگفتگی پیدا کرتی ہیں یہ دماغی تفریحی کا ذریعہ بنتی ہیں۔ مطالعہ کتب روح کی غذا ہے یہ روحانی وظائف مائیں کرتی ہیں بزرگوں اور صوفیائے کرام کے مشاہدات اور قلبی واردات بناتی ہیں۔ کتابوں کا مطالعہ دماغ کی ہو عبیدہ صلاحیتوں کو پیدا کرتا ہے یہ انسان کی صلاحیتوں کو جلا بخشتا ہے۔

حالات حاضرہ سے آگاہی۔:

مطالعہ کتب سے حالات حاضرہ آگ ایسی ہوتی ہے دنیا کے ممالک کی بدولت صورت حال سے واقف ہوتی ہے انقلاب کی وجوہات معلوم ہوتی ہے۔

وسعت نظر:

مطالعہ کتب سے انسان کا علم بڑھتا ہے وہ قدرت کے عجائبات سے بہت کچھ سیکھا ہے انسان میں بس نظر بد اور ہو جاتی ہے وہ عالمگیر احوت کا قائل ہو جاتا ہے۔ تعصب اور تنگ نظری سے نفرت کرتا ہے انسانیت کا احترام کرتا ہے اور تمام بنی نوع انسان کی بیٹری اور بہبود کے بارے میں سوچتا ہے۔

کتابوں کا انتخاب۔،

کتابوں کا انتخاب بہت اہم مسئلہ ہے اس میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے اچھی کتابیں اچھے چال چلن کا باعث بنتی ہیں جبکہ محرم لاق فحش اور بے ہودہ کتاب انسان کے ذہن ک گندا دماغ خراب بنا دیتے ہیں ہمیشہ عظیم انسانوں کی سوانح عمر یا اخلاقی اور مذہبی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہئے۔

۔ سائنس کے کرشمے

انسان کا مقام۔؛

انسان خدا کا خلیفہ اور اشرف المخلوقات ہے اس علم جیسی عظیم نعمت سے نوازا گیا ہے  خدا نے اسے بہترین صلاحیتیں دی وہ ان صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر مسلسل ارتقا اور ترقی کی منزلیں طے کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ کمرانی کی منزلوں کو چھو رہے ہیں۔ آج انسان مریخ سے آگے کمند ڈال چکا ہے۔ ابھی اس کے کمال کا اندازہ لگانا ممکن نہیں یہ تو تسخیر کائنات کی تمہید ہے علامہ اقبال اسی لئے فرمایا۔

عروج آدم خاکی سے انجمن سمجھے جاتے ہیں

کہ یہ ٹوٹا ہوا تارامہ کامل نہ بن جائے

سائنسی علم انسان کی مسلسل محنت اور ریاضت کا ثمر ہے اسےحاصل کرنے کے لئے انسان نے کئی مراحل طے کیے۔

سائنس کی ایجادات:

انسان نے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مسلسل جدوجہد جاری رکھیں۔ غاروں میں رہنے والے انسان نے ارتقائی مراحل طے کئے اور آج وہ خلاء کو تسخیر کر رہا ہے۔ سائنسی ایجادات کسی فرد واحد کی ذہنی صلاحیتوں کا قسم نہیں بلکہ ہزاروں انسانوں نے اپنے اپنے دور میں بنی نوع انسان کی فلاح کے لیے یہ ایجاد کی ہیں۔ سائنس کے بے شمار کر سمیان کو احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں

سائنس کے انسانی زندگی پر اثرات۔۔

سائنس نے انسانی زندگی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اقتصادی سیاسی معاشرتی اور تمدنی اقدار سے سانچوں میں ڈھل نے لگے۔ گزشتہ دو برسوں میں انسان نے فطرت کی قوتوں کو مسخر کر لیا۔ اور قدرتی وسائل سے پوری طرح فیضیاب ہو رہا ہے۔ ہمارا معیار زندگی بہتر ہے اور گردوپیش کا ماحول بہت ساز گار ہوگیا۔ جو جو سیال بڑھتا گیا لوگوں نے قوانین فطرت کو اس طریقے سے  استعمال کرنا سیکھ لیا جس سے ہماری زندگی میں انقلاب آ گیا۔

ذرائع نقل و حمل۔:

سانس نے ذرائع نقل و حمل میں ایک عظیم انقلاب پیدا کردیا طویل فاصلے سمٹ کر رہ گئے۔  سائنسدانوں نے سب سے پہلے حرارت کا انجن ایجاد کیا پھر نئے تجربے ہونے لگے اور ذرائع نقل و حمل بہتر سے بہتر ہوتے گئے۔ آج ساری دنیا کو ہار لے ایک چھوٹے سے شہر سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ آواز سے تیز رفتار جہازوں کے ذریعے ہم دنیا کے ایک کونے سے چند گھنٹوں دوسرے کونے میں جا سکتے ہیں۔ بیری اور ہوائی جہازوں کے ذریعے اپنا سامان ہزاروں میل دور نہایت اطمینان سے بہج سکتے ہیں۔

برقی توانائی۔:

برقی توانائی کی دریافت سائنس کا ایک حیرت انگیز کرشمہ ہے۔ آج برقی توانائی کا استعمال  ہماری زندگی میں بہت بڑھ گیا  اسس روشنی حرارت ویڈیو ٹیلی ویژن اور برقی موٹروں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

طب۔؛۔ قدیم انسان کو دہائی امراض کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ لاکھوں افراد جیت ملیریا ٹاؤن  چیچک اور محرقع جیسی ملہک بیماریوں کا لقمہ بن جاتے ہیں۔ آپ سائنس کی ترقی نے  ایکس ریز دریافت کرلی ہے جن سے بیماریوں کو سمجھنے اور ان کے کامیاب علاج میں بہت زیادہ مدد مل جائے۔ تابکار شعاعوں سے خون اور جلد کی بیماریوں اور کئی قسم کے سرطان کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ دل کی بیماریوں کی تشخیص کے لیے ایسی جی کی ایجاد ہوئی۔ بہرے اور کم سننے والے کیلئے آلہ سماعت وجود میں آیا۔ سائنس کی جدید ترین دریافت لینز کا جراحی میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ انتقال اوزا کی ٹیکنالوجی بھی شروع ہوچکی ہے آج آنکھ اور گردے کامیابی سے ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہو رہے ہیں۔ نکاح گردے اگر تبدیل نہ کیا جا سکے تو ان کا کام گردہ مشین کر سکتی ہے۔ انتقال قلب کے تجربات بھی جزوی طور پر کامیاب ہوچکے ہیں۔ مصنوعی پھول اور مصنوعی تنفس کا استعمال عام ہورہا ہے بلیوں کے مطالعہ سے تو اثر کے متعلق بھی انکشاف ہوئے ان کی بنا پر موروثی بیماریوں کا علاج ممکن ہے۔

نیو کلیائی سائنس۔:

موجودہ تحقیقات میں سائنس کو بے حد وسیع کر دیا ہے اور ہمیں اس الزام کی خاصیتوں ایٹم اور نیوکلیس کی ساخت میں علم دیا۔

ایٹمی توانائی۔؛

سائنس کی ترقی سے ملک میں امن اور رات میں انقلاب برپا کر دیا۔ پاور ری ایکٹر نے ایٹم بم سے بجلی کی توانائی کا حصول ممکن بنا دیا۔ استوائی کی بدولت اور ذو کشتیوں سے ہم سمندر کی گہرائیوں میں موجود معدنیات کا مطالعہ کر سکتے ہیں تنہائی کی بےشمار ضروریات کو پاور پلانٹ بنا کر پورا کیا جا رہا ہے

ملکی کی ترقی۔:

سائنس کی ترقی سے ملک کی تجارت صنعت اور معیشت پر گہرا اثر پڑا ہے۔ آج دنیا چھوٹے سے شیر کی مانند ہے ہر شخص دوسرے سے رابطہ رکھ سکتا ہے۔ زمین کا کارخانوں کی پیداوار صلاحیت بڑھ چکی ہیں فیکٹریوں میں  نی نی مشینیں آ چکی ہیں۔ جدید ترین طریقہ پیدائش کو اپنا کر پیداوار کو بڑھایا جاتا ہے مصنوعی ریشے بن چکے ہیں انجینئرنگ کے کی شعبہ معرضی وجود میں آ چکے ہیں۔

زرعی ترقی۔:

آبادی میں بے پناہ اضافے سے تعجب و تمدن میں نئی نئی قدروں کی وجہ سے نسل انسانی کی ضرورت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ عام مروجہ طریقے سے انہیں پورا کرنا مشکل ہے۔ سائنسدان ایسی خالی تیار کر رہے ہیں جن کے استعمال سے زمین کی پیداوار بڑھ گئی ہے۔ جدید مشینوں کا استعمال کیا جا رہا ہے مختلف تجربات کی وجہ سے سیم اور تھور پر قابو پانے کے طریقے نکل آئے۔ بیماریوں سے پاک بیج کا انتظام کیا جاتا ہے کرم کش ادویات سے کروڑ ٹن غلہ محفوظ ہوگیا۔ ہوائی جہازوں سے فصل پر سپرے ہوتا ہے۔ اسی طرح ٹڈی دل اور دیگر موذی حشرات کو تباہ کیا جاتا ہے۔ پانی کی کمی کے  مسائل کو پورا کرنے کے لیے اوپر بند باندھ کر نکال کر حال کیے جا رہے ہیں۔

خلائی تسخیر۔:

آج انسان چاند سے آگے نکل چکا ہے اس کے بھیجے ہوئے راکٹ سہرا مشتری اور زحل کا بھی کریں بھی مطالعہ کر چکے ہیں۔۔ خلائی تخلیق کے ماہرین اب زمین سے بھی اوپر ایک خلائی اسٹیشن بنا کر وہاں سے دوسرے سیاروں پر جست لگانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

کمپیوٹر ٹیکنالوجی۔؛

یہ حقیقت ہے کہ سائنس میں حیرت انگیز ترقی کمپیوٹر کی وجہ سے ہوئی۔ آپ کمپیوٹر دفتر حسابات ہوائی جہاز خلائی جہازوں برقی آلات ذرائع نقل و حمل اور بے شمار دوسری مصنوعات میں استعمال ہونے لگے۔ اخبارات اور کتابوں کے چننے کا کام آپ کمپیوٹر نے سنبھال لیا ۔ خلیج کی جنگ کمپیوٹر کی مدد سے لڑی گئی تھی۔

ڈی خدمات۔۔۔

سائنس نے ملکی دفاع کو بہتر مضبوط بنا لیا ہے ریڈار حساس کیمرے طیارہ برادر جہازو مزائل ایف سولہ جہاز آ گیا  ویسے سارے اور لیزر شعاعیں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

گھریلو اور آسائشیں۔،۔

سائنس نے گھر میں کام کرنے والی عورتوں کو گھریلو کام کاج میں سہولتیں مہیا کردیں۔ کپڑے اور برتن مسالہ پیسنے آٹا گوندھنے کی مشین پر صاف کرنے کے لیے ویکیوم استری پریشر کوکر اور اس طرح کی خوشبودار کریم پاوڈر سب سائنس کی بدولت معرض وجود میں آیا۔

تفریح۔،،

انسان کی ذہنی تفریح اور آسودگی کے لئے سائنس نے بہت سے سامان پیدا کیے ریڈیو ٹیلی ویژن ٹیک ریکارڈر کمپیوٹر  کی طرح طرح کی کھیلیں بن چکے ہیں۔

انسانی بقا کو خطرہ،۔۔

سائنس کی بعض  ایجادات میں موت کو نہایت ازاں کر دیا ہے۔۔ ایسے خطرناک اور مہلک ہتھیار ایجاد ہو چکے ہیں جو پلک جھپکنے میں انسانوں اور اس کرہ ارض میں بسنے والی دیگر جاندار چیزوں کو نیست و نابود کر سکتے ہیں۔ ایٹم بم اور ہیڈروجن بم کی ایجاد انسان کے لیے مستقل خطرہ ہے اب ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک راکٹوں کے ذریعے آسانی سے ہلاک کر دینے والے مادے پھینک جا سکتے ہیں۔ انسان کا فرض ہے کہ وہ سینس اجداد کو پرامن مقاصد کے لیے استعمال کرے

۔ کسی میچ کا آنکھوں دیکھا حال

اہمیت۔؛

زندگی میں کھیل کو اتنی ہی اہمیت حاصل ہے جتنی تعلیم کو ۔ کے ہمارے اندر نظم و ضبط اطاعت ہمت و استقلال اور قوت برداشت پیدا کرتے ہیں۔ کی ناکامیوں میں بلند حوصلہ رکھنے کا سبب بنا ہے ۔ میچ اسی سلسلے کی کڑی ہوتے ہیں۔

ایک میچ کا پروگرام۔:

ہم نے بے شمار میچ دیکھے ہیں مگر گزشتہ ہفتے ایک ایسا یادگار میچ دیکھا ہے جو کسی فراموش نہیں کر سکتے۔ یہ گورنمنٹ ہائی سکول اور اسلامیہ ہائی سکول کا دوستانہ میچ تھا۔ میچ میں اسلامیہ ہائی سکول کی گراؤنڈ میں کھیلا جانے والا تھا۔

تماشائی۔:

میچ کے انعقاد کے بارے میں چند روز پہلے اعلان کر دیا گیا تھا چنانچہ مقرر وقت ہے کئی گھنٹے پہلے تماشائی جمع ہونے شروع ہو گئے۔ دونوں سکولوں کے طلباء اور اساتذہ کے علاوہ شہر کے بہت سے لوگ یہ میچ دیکھنے آئے تھے۔

میچ کا آغاز۔؛

میں تو تین بجے دوپہر شروع ہونا تھا لوگ بے تابی سے میچ شروع ہونے کا انتظار کر رہے تھے ٹھیک تین بجے دونوں ٹیمیں میدان میں آئیں۔ سب سے پہلے مہمان خصوصی سے دونوں ٹیموں کا تعارف کرایا گیا پھر دونوں کپتانوں نے آگے بڑھ کر مصافحہ کیا۔ ٹاس ہوا اسلامیہ ہائی سکول نے ٹاس جیتا ریفری نے سیٹی بجائی اور اسلامیہ اسکول کے کپتان نے کھیل کا آغاز کیا۔

میچ کے ابتدائی لمحات۔:

شروع میں دونوں ٹیمیں احتیاط سے کھیلنے لگی اس طرح 15 منٹ گزر گئے کھیل میں کوئی گرمی نہ آئیں تماشا یاد آنے لگے لڑکے مختلف آوازیں نکالنے لگے۔

کھیل میں تیزی۔:

پندرہ منٹ کی بوریت کے بعد کھیل میں تیزی آنے لگی گورنمنٹ ہائی سکول کے کپتان نے بھی کے قریب آ کر گیند پھینکی۔ اسلامیہ ہائی سکول کا گول کیپر بہت چست اور پر تیرا تھا وہ فورا آگے بڑھا اور کھیل کود اور پھینک دیا۔ اس طرح گول نہ ہو سکا اس نے بڑی ہوشیاری سے اپنا دفاع کیا ابھی 25 منٹ گزر چکے تھے۔ گورنمنٹ ہائی سکول کا ایک کھلاڑی گیند کو لے کر آگے بڑھا اس نے کئی کھلاڑیوں کو ڈاج دیا اور گول کی طرف بڑھنے لگا۔ وہ بڑی تیزی سے گیند کو لے کر بھاگ رہا تھا کہ کھلاڑیوں نے اس سے گیند چھیننے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ کھیل میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا ہو گئی تماشائی سانس روک کر دیکھ رہے تھے۔ گورنمنٹ ہائی سکول کا یہ کھلاڑی بھی کے قریب پہنچ چکا تھا وہ ایک لمحہ کے لئے رکا اور گول کر دیا۔ بول کے ساتھ ہی میدان فلک بوس نعروں سے گونج اٹھی مکے دوسرے کھلاڑی باری باری سے گلے ملنے لگے گراؤنڈ میں قیامت کا شور مچا ہوا تھا۔

کھیل میں زبردست تیزی،:

پہلے گول کے ساتھ کھیلنے میں بہت تیزی آگئی گورنمنٹ ہائی سکول کی ٹیم اپ جعرانہ کھیل پیش کرنے لگی۔ اسلامی اسکول کی ٹیم کی کوشش تھی کہ کسی طرح گول برابر کردی دونوں ٹیمیں بڑھ چڑھ کر حملے کرنے لگی۔ گیند اگر ایک لمبا ایک ٹیم کے ہاف میں ہوتی تو دوسرے لمبے دوسری ٹیم کے ہاف میں۔ اسلامیہ ہائی سکول نے گول برابر کرنے کی سر توڑ کوشش کی مگر مخالف ٹیم کا گول کیپر ان کی ایک نہ چلنے دیتا اس نے کئی یقینی گول بچائے۔

وقفہ۔:

اتنے میں ریفری نے سیٹی بجادے کھیل کا پہلا ہاف ختم ہو چکا تھا۔ کھلاڑی اپنے خیموں میں چلے گئے جہاں انہیں جوس پلایا گیا اور پھول پیش کیے گئے۔

کھیل کا دوبارہ آغاز۔:

دس منٹ کے وقفے کے بعد دوبارہ کھیل شروع ہوا اسلامیہ ہائی سکول نے ٹیم میں کچھ تبدیلیاں کی میچ شروع ہوتے ہی اس نے گول اتارنے کی طرف توجہ تیز کر دیں۔ اس کے کھلاڑی ڈی پر زوردار حملے کرنے لگے اور اب صرف کھیل پیش کرنے لگے۔ ریفری نے انہیں وارننگ دی مگر وہ اس قدر بھلا چکے تھے کہ ان کی حرکات سے باز نہ آئے۔

دوسرا گول۔

دوسرے آپ کو شروع ہوئے دس منٹ ہوئے کہ گورنمنٹ ہائی سکول نے ایک پلنٹی کارنر پر دوسرا گول کر دیا یہ گول اتنی مارچ اور چابکدستی سے کیا تھا کہ لوگ حیران رہ گئے اب اسلامیہ سکول کے کھلاڑیوں کے حوصلے پست ہوں گے۔

دفاعی کھیل۔:

دوسرے گول کے بعد اسلامیہ ہائی سکول کی ٹیم کے پاؤں کرنے لگے کھلاڑیوں کا باہمی رابطہ قائم نہیں ہو رہا تھا۔ وہ کافی الجھے نظر آنے لگے اپنے آپ کو سنبھالنے سے قاصر تھے وہ دکھائیں کھیلنے پر مجبور ہوگئے۔

مخالف ٹیم کا حوصلہ۔:

گورنمنٹ ہائی سکول کی ٹیم نے دوسری ٹیم کی کمزوری کو جلد باب لیا اور اس پر چھانے لگی اب گیند زیادہ وقت اسلامیہ سکول کے ہاتھ میں رہنے لگی۔ وہ اس بونڈری لائن سے باہر پھینکنے لگے تاکہ مزید گول کی شرمندگی سے بچ سکیں۔

آخری لمحات۔:

آپ کھیل ختم ہونے میں چند لمحے رہ گئے تھے اسلامیہ ہائی سکول نے نئے سرے سے کوشش کی کہ وہ گول اتار سکے اس نے اب تیز کھیلنا شروع کر دیا۔ گورنمنٹ ہائی سکول نے جوابی حملہ بھرپور انداز میں کیا اور کھیل ختم ہونے سے جنگلوں میں پہلے تیسرا گول بھی کر دیا۔ اس سے اسلامیہ ہائی سکول کی رہی سہی امید بھی دم توڑ گئیں اور کھلاڑیوں کے چہروں پر مایوسی چھا گئی۔

کھیل کا خاتمہ۔:

 

اس کے بعد رفری نے وسلم بجا دی گورنمنٹ ہائی سکول جیت گیا اس کے طالبان نے اپنے کھلاڑیوں کو کندھوں پر اٹھایا اور جلوس کی شکل میں شیر کی طرف چل پڑے۔ ہم سب نے میچ سے لطف اٹھایا لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں اس میچ پر تبصرہ کیا ہم مدتوں اس میچ کو یاد رکھیں گے۔

For more notes Click Here

Shaheen Forces Academy

Subscribe our YouTube Channel Here

Shaheen Forces

Install our Mobile Application Here

Subscribe YouTube Channels

Apply Here for Online Forces Registration

Contact us

Location

Village & Post Office Injra (Attock)

Our hours

09:00 AM – 05.00 PM
Monday – Sunday

Contact us

Mobile: +92-334-8480890
Email: sarfraz206@yahoo.com

Leave a Reply

Scroll to Top
%d bloggers like this: